’زندگی بھر کا دکھ‘: والکاٹ عالمی کپ سے باہر

Image caption تھیو نے صرف 17 برس کی عمر میں انگلینڈ کی قومی ٹیم میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا

انگلینڈ فٹ بال ٹیم کے فارورڈ تھیو والکاٹ گھٹنے میں چوٹ لگنے کے باعث اس سال جون اور جولائی میں برازیل میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی مقابلوں میں انگلینڈ کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے۔

تھیو والکاٹ لندن شہر کے کلب آرسنل کی طرف سے کھیلتے ہیں۔ وہ زخمی گھٹنے کی وجہ سے اگلے چھ ماہ تک فٹ بال کے میچوں سے باہر رہیں گے۔

انگلینڈ کے سابق کھلاڑی ایئن رائٹ کا کہنا ہے کہ تھیو والکاٹ کو زخمی گھٹنے کی وجہ سے عالمی کپ میں انگلینڈ کی طرف سے نہ کھیلنے کا دکھ ساری زندگی رہے گا۔

تھیو والکاٹ نے مئی 2006 میں ہنگری کے خلاف میچ میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کی طرف سے کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 17 برس 75 دن تھی۔

حیران کن طور پر انھیں سنہ 2010 میں جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے عالمی کپ کے مقابلوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

24 سالہ تھیو والکاٹ آرسنل کی طرف سے لندن ہی کے ایک اور کلب ٹوٹنہم کے خلاف ایف اے کپ کے مقابلے میں کھیلتے ہوئے زخمی ہو گئے تھے۔

آرسنل کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ تھیو کو زخمی گھٹنے کا آپریشن کرانا پڑے گا جس کی وجہ سے وہ اگلے چھ ماہ تک فٹ بال نہیں کھیل سکیں گے۔

Image caption تھیو والکاٹ آرسنل کی طرف سے ٹوٹنہم کے خلاف ایف اے کپ کے مقابلے میں کھیلتے ہوئے زخمی ہو گئے تھے

والکاٹ کے زخمی ہونے کی خبر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ان کی ٹیم کے ایک اور کھلاڑی آرن رمزی نے لکھا: ’میں تھیو کے لیے غمگین ہوں۔ لیکن وہ پہلے سے زیادہ بہتر ہو کر ٹیم میں واپس آئیں گے۔ اس سیزن میں وہ ٹیم کے لیے بہترین ثابت ہوئے۔ جلد صحت یاب ہو جاؤ دوست۔‘

فٹ بال کے عالمی کپ کے مقابلے 12 جون سے برازیل میں شروع ہو رہے ہیں اور عالمی کپ کے افتتاح کے دو دن بعد انگلینڈ کا پہلا میچ اٹلی کے خلاف ہے۔

والکاٹ 36 مرتبہ انگلینڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں اور انھوں نے پانچ گول کیے ہیں۔ انگلینڈ نے ان میں سے 27 میچ جیتے ہیں، سات برابر رہے اور دو میچ ہارے ہیں۔

مونٹی نیگرو اور پولینڈ کے خلاف گذشتہ دو کوالیفائنگ مقابلوں میں تھیو کو انگلینڈ کی نمائندگی کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔

تھیو والکاٹ کو ابھی تک عالمی کپ کے فائنل مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا گو کہ انھیں 2006 میں انگلینڈ کے مینیجر سون گورن ارکسن نے حیران کن طور پر ٹیم میں شامل کر لیا تھا۔

سنہ 2010 کے عالمی کپ میں حصہ لینے والی انگلینڈ ٹیم کے مینیجر فیبیو کپیلو نے ان کا انتخاب نہیں کیا تھا۔ تھیو نے محنت جاری رکھی اور پھر فیبیو کپیلو نے انھیں سنہ 2012 کے یورو کپ میں قومی ٹیم میں شامل کر لیا اور تھیو نے ایک گروپ میچ میں سویڈن کے خلاف جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

تھیو والکاٹ کے زخمی ہونے کو ان کے کلب اور قومی ٹیم کے لیے بڑا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر فٹ بال ایسوسی ایشن نے تھیو کی جانب سے اسٹریچر پر باہر جاتے جاتے ٹوٹنہم کے مداحوں کے خلاف اشارہ کرنے پر کوئی تادیبی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آرسنل کے مینیجر آرسن وینگر نے تھیو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان پر ٹوٹنہم کے مداحوں نے سکے پھینکے تھے۔