بنگلہ دیش سکیورٹی: ’دفترِ خارجہ سے ایڈوائس مانگی ہے‘

Image caption ’بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کے باعث ایشیا کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات ہیں‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ بورڈ نے بنگلہ دیش میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفترِ خارجہ سے ایڈوائس مانگی ہے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کی صبح لاہور ہوائی اڈے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کے باعث ایشیا کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات ہیں۔

یاد رہے کہ ایشیا کپ بنگلہ دیش میں فروری میں منعقد ہونا ہے۔ اس کے علاوہ مارچ میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی بھی بنگلہ دیش ہی نے کرنی ہے۔

اس سے قبل بھی پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی کہہ چکے ہیں کہ بنگلہ دیش کی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کی ضمانت ملنی چاہیے کیونکہ وہاں پاکستان کے بارے میں اس وقت سخت موقف پایا جارہا ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ ابھی وقت ہے اور امید ہے کہ بنگلہ دیش کے حالات بہتر ہوجائیں گے اورسکیورٹی کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو یقین دہانی مل جائے گی۔

انھوں نے کہا: ’لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ظاہر ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور اگر کسی وجہ سے پاکستانی ٹیم وہاں شرکت نہیں کر پاتی تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ یہی کہے گا کہ یہ دونوں مقابلے بنگلہ دیش سے کسی دوسرے ملک منتقل کردیے جائیں۔‘

بنگلہ دیش کی خراب صورتِ حال کے پیش نظر ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 ٹیم قبل از وقت دورہ ختم کر کے واپس جا چکی ہے۔

نجم سیٹھی نے پہلے کہہ چکے ہیں کہ ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس چار جنوری کو سری لنکا میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ یہ معاملہ اٹھائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں بنگلہ دیشی حکومت، عوام اور میڈیا ایک خاص موقف رکھتے ہیں، لہٰذا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کی ضمانت دی جائے اور یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا خیال رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے 65 سالہ عبدالقادر ملا کو پھانسی دی گئی تھی۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے پیر کو ان کی پھانسی کے خلاف کثرتِ رائے سے قرارداد منظور کی تھی۔

بنگلہ دیش نے جماعتِ اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی پھانسی کے خلاف پاکستان کی قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری پر پاکستانی ہائی کمشنر سے وضاحت طلب کی تھی۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ عبدالقادر ملا پر مقدمہ اور انھیں دی گئی سزا ملک کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی اسمبلی کی قرارداد غیر ضروری تھی۔

اس کے بعد بنگلہ دیش میں پاکستان کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔

اسی بارے میں