مانچسٹر یونائٹیڈ کے مینیجر پر بدسلوکی کا الزام

Image caption موئز نے گذشتہ سیزن کے خاتمے پر سر ایلکس فرگیوسن سے مانچسٹر یونائٹیڈ کی ذمہ داری لی تھی

فٹبال ایسوسی ایشن نے معروف ٹیم مانچسٹر یونائٹیڈ کے مینیجر ڈیوڈ موئز کو بدسلوکی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

ان پر یہ الزام منگل کو ہونے والے میچ کے بعد ان کے بیان کے نتیجے میں لگایا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مانچسٹر یونائٹیڈ کے لوگ ریفری کے ’خراب فیصلوں کے لیے ان پر ہنسنے لگے ہیں۔‘

واضح رہے کہ ان کی ٹیم لیگ کپ کے پہلے دور کے سیمی فائنل میں سنڈرلینڈ سے ایک کے مقابلے دو گول سے ہار گئی ہے۔

انھوں نے اس شکست کے بعد مزید کہا تھا کہ ان کی ٹیم کو ’مخالف ٹیم کے علاوہ ریفری کے خلاف بھی کھیلنا پڑا۔‘

موئز کو 15 جنوری تک ان پر لگائے گئے الزامات کے جواب کے لیے مہلت دی گئي ہے۔

فٹ بال ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فٹ بال کے ضابطے ایک 3 (1) کے تحت ان کا بیان میچ کرانے والے حکام کی دیانت داری پر سوالیہ نشان ہیں۔ یا ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ میچ آفیشیئلز تعصبات کا شکار ہیں یا یہ کھیل کی بدنامی کا باعث ہوا ہے۔‘

لیگ کے پہلے مرحلے میں گذشتہ ایک ہفتے میں یہ یونائٹیڈ کی تیسری شکست ہے۔ اس سے قبل ایسا سنہ 1992 میں ہوا تھا۔

سنہ 2014 کی شروعات میں پریمیئر لیگ کی چیمپین اپنے ہی گراؤنڈ پر ٹاٹنہم سے ایک کے مقابلے دو گول سے شکست کھا گئی تھی اور اولڈ ٹریفورڈ کے میدان پر ہی سوانزی کے ہاتھوں شکست کے بعد ایف اے کپ سے خارج ہو گئی۔

ایورٹن کے سابق مینیجر یونائٹیڈ کی حالیہ شکست کے دوران ایک فیصلے سے چیں بہ جبیں ہو گئے اور انھوں نے اس فیصلے کو ’سکینڈل‘ قرار دیا کیونکہ ان کے مطابق کھیل کے آخری مراحل میں یونائٹیڈ کو پنالٹی نہیں دی گئی۔

موئز نے گذشتہ سیزن کے خاتمے پر سر ایلکس فرگوسن سے یونائٹیڈ کی ذمہ داری لی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ کلب کے برے وقت میں کلب کی رہنمائی کرنے کا انھیں حق حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے پہلے بھی ایسا کیا ہے۔ میں تجربہ کار ہوں اور مجھے یہ لگتا ہے کہ چیزیں بدلنے کو ہیں۔‘

’اگر آپ اس کام میں ہیں تو ایسا تو ہوتا ہی ہے۔ آپ کو جیت حاصل کرنی ہوتی ہے لیکن گذشتہ چند میچوں میں مجھے جیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔‘

’ہم مشکل دور سے گذر رہے ہیں۔ یہ فٹ بال کی انتظامیہ میں عام بات ہے اور کبھی بھی یہ بہت آسان نہیں رہا ہے۔‘

اس سے قبل اسی ہفتے لیورپول کے مینیجر برینڈن روجرز پر ریفری لی میسن کے تعلق سے کیے جانے والے کمنٹ کے لیے 8000 پاؤنڈ کا جرمانہ کیا گيا تھا۔

اسی بارے میں