فائٹ بیک! تیسرا ٹیسٹ پاکستان جیت گیا، سیریز برابر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اظہر علی عمدہ بیٹگ کر رہے ہیں

شارجہ میں سری لنکا کے خلاف آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے دوسری اننگز میں تین سو دو رنز کا ہدف حاصل کر کےنہ صرف میچ جیت لیا ہے بلکہ ٹیسٹ سیریز بھی برابر کر دی ہے۔

دوسری اننگز میں اظہر علی کی سنچری نے پاکستان کی جیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔اظہر علی نے 137 گیندوں پر 103 رنز بنائے۔

پاکستان کی ریوس سویپ، میچ پلٹ دیا

پاکستان نے شارجہ میچ جیت لیا، تصاویر

کپتان مصباح کی بلے بازی بھی نہایت اہم رہی اور انھوں نے صرف 72 گیندوں میں 68 رنز بنائے۔

مجموعی طور پر پاکستان نے میچ کے آخری دن زبردست کھیل پیش کیا پہلے عبدالرحمان نے بہترین بالنگ کی اور سری لنکا کی ٹیم دوسری اننگز میں صرف دو سو چودہ رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ مجموعی طور پر پاکستان کو اپنی دوسری اننگز اور میچ کی چوتھی اننگز میں 302 کا ہدف ملا جو پاکستان نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے حاصل کر لیا۔

چوتھے دن چائے کے وقفے تک پاکستان کے میچ جیتنے کے امکانات معدوم ہوتے نظر آ رہے تھے جب 107 کے سکور پر پاکستان کے تین کھلاڑئ آؤٹ ہو چکے تھے اور میچ جتینے کے لیے صرف 35 اوور میں 195 رنز درکا تھے۔

لیکن اظہر علی نے امید کا دامن نہ چھوڑا اور رنز بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کی سرفراز احمد کے ساتھ 89 رن کی شراکت نے جو صرف چودہ اوور میں ہوئی اس نے سری لنکا کو ایک مرتبہ پھر سری لنکا کی میچ پر گرفت کمزور کر دی۔

جب سرفراز وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو گئے اس وقت بھی پاکستان کو ایک سو سولہ رنز چاہیں تھے۔

لیکن مصباح اور اظہر علی نے تین سو دو کا ہدف حاصل کر کے پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ ٹسیٹ کرکٹ ٹیم نے سنہ انیس سو 1994 میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں تین سو چودہ کا ہدف حاصل کر لیا تھا

پاکستان کی بلے بازی میں وکٹ کیپر سرفراز بھی اہم رہے اور انھوں نے 46 گیندوں پر 48 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں ایک چھکا اور چار چوکے شامل تھے۔

سرفراز اس سیریز میں کیپنگ کے ساتھ ساتھ اچھی بیٹنگ کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ ایک میچ میں نصف سنچری بھی بنا چکے ہیں جو پاکستان ٹیم کے لیے خوش آئند بات ہے۔

پاکستان نے اننگز کی ابتداء سے ہی سری لنکا پر دباؤ ڈالنا شروع کیا اور پاکستان کے اوپنرز احمد شہزاد اور خرم منظور نے کھل کر کھیلنا شروع کیا۔ لیکن دونوں اوپنر زیادہ دیر کریز پر نہ رہ سکے۔ پہلے احمد شہزاد ایک اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے اکیس کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہوئے اس کے بعد خرم منظور کی وکٹ گری۔ خرم منظور نے بھی اکیس رن ہی بنائے۔ لکمل کی لیگ پر ایک اونچی اٹھتی ہوئی گیند ان کے دستانوں کو چھوتی ہوئی وکٹ کے پیچھےگئی جسے ایک زقند بھر کر کیپر نے کیچ کر لیا۔

پاکستان کی جانب سے بہترین گیند باز عبد الرحمان رہے جنہوں نے 4 وکٹیں لیں جبکہ سعید اجمل اور محمد طلحہ نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

اس سے پہلے چوتھے روز پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 341 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور کھیل کے اختتام تک سری لنکا کو 220 رنز کی برتری حاصل ہو گئی تھی۔

چھوتھے دن کھیل کے اختتام پر میتھوز اور ایچ اے پی ڈبلیو وردھنے کریز پر موجود تھے اور اس وقت تک پاکستان کی جانب سے طلحہ اور عبدالرحمان نے دو دو وکٹیں جبکہ سعید اجمل نے ایک وکٹ حاصل کر رکھی تھی۔

اس سے قبل پاکستان نے جب چھ وکٹوں کے نقصان پر 291 رنز پر چوتھے دن کا آغاز کیا تو آؤٹ ہونے والے سب سے پہلے کھلاڑی عبد الرحمان تھے جو دن کے دوسرے اوور میں ہی پویلین واپس لوٹ گئے۔

پاکستانی کپتان مصباح الحق 63 رنز بنا کر رنگنا ہیراتھ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے تو 10 ویں نمبر پر آنے والے فاسٹ بولر جنید خان نے آتے ہی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی۔ انہوں نے دو چھکوں کی مدد سے دس گیندوں پر 16 رنز بنائے۔ سعید اجمل کوئی رن بنائے بغیر ناٹ آؤٹ رہے۔

رنگنا ہیراتھ نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

تیسرے دن پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 19 رنز سے اپنی اننگز کا آغاز کیا تھا اور میچ کے اختتام پر کپتان مصباح الحق اور سرفراز احمد کریز پر موجود تھے۔

تیسرے دن پاکستان کی اننگز کی خاص بات احمد شہزاد کے سنچری تھی۔ وہ 147 رنز ہیرتھ کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

آؤٹ ہونے والے دوسرے کھلاڑیوں میں خرم منظور نے 52، اظہر علی نے 8، اسد شفیق نے 18 اور یونس خان نے 17 رنز بنائے۔

اس سے پہلے دوسرے دن کے اختتام پر پاکستان نے سری لنکا کے خلاف پہلی اننگز میں بغیر کسی نقصان کے 19 رنز بنائے تھے جب احمد شہزاد اور خرم منظور کریز پر موجود تھے اور دونوں نے بالترتیب پانچ اور 14 رنز بنائے تھے۔

اس سے پہلے سری لنکا نے پاکستان کے خلاف پہلی اننگز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 428 رنز کر اننگز ڈکلئیر کر دی تھی۔

سری لنکا کی جانب سے پرسنا جے وردھنے اور اینجلو میتھیوز نے دوسرے دن کے کھیل کا آغاز کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی اننگز کی خاص بات احمد شہزاد کے سنچری تھی۔ وہ 147 رنز ہیرتھ کی گیند پر بولڈ ہو گئے

میچ کے دوسرے دن سری لنکا کو جلد ہی اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب پرسنا جے وردھنے کو محمد طلحہ نے 35 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

سری لنکا کی جانب سے بلے باز دل رو وان پریرا نے 12 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 95 جبکہ اینجیلو میتھیوز نے پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 91 رنز بنائے۔

دونوں بلے باز اپنی سنچریاں مکمل کرنے میں ناکام رہے۔

پاکستان کی جانب سے جنید خان نے تین، سیعد اجمل اور محمد طلحہ نے دو دو جبکہ عبدالرحمان نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

تیسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کھیل کے اختتام پر سری لنکا نے پاکستان کے خلاف پانچ وکٹوں کے نقصان پر 220 رنز بنائے تھے۔

جمعرات کو شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں سری لنکا کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

اسی بارے میں