کرکٹ بورڈ سونے کی چڑیا ہے: عارف عباسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ کی اصل قوت جنرل باڈی ہے جو ایسوسی ایشنز کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے: عارف عباسی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکیٹیو عارف علی خان عباسی کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ حکومت کا کھلونا بن چکا ہے، یہ سونے کی چڑیا ہے کیونکہ جو بھی ایڈہاک میں آتا ہے وہ جاتا نہیں۔

عارف علی خان عباسی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایڈہاک کے معنی عارضی ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ میں پندرہ سال سے ایڈہاک سیٹ اپ ہے لیکن چند ماہ قبل اسی ایڈہاک کے اوپر ایک اور ایڈہاک کا لگایا جانا مضحکہ خیز ہے۔

انھوں نے کہا کہ جس نے بھی اس مرتبہ حکومت کو ایڈہاک لگانے کا مشورہ دیا وہ غلط تھا کیونکہ اس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔

عارف عباسی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اصل قوت جنرل باڈی ہے جو ایسوسی ایشنز کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے اور جب تک جنرل باڈی، ایگزیکیٹیو کونسل، اعزازی خازن اور چیف ایگزیکیٹیو رہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہے۔ لیکن طویل عرصے سے جنرل باڈی ہی کو اس کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا ہے۔

عارف عباسی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ دنیا کا واحد بورڈ ہے جس کے کئی مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہر کوئی آئین کی بات کرتا ہے جب کہ مسئلہ آئین کا نہیں ہے، کیونکہ آئین سے کرکٹ میں بہتری نہیں آئی۔ اصل مسئلہ شخصیت پرستی ہے اس ’میں‘ نے پاکستانی کرکٹ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

سابق چیف ایگزیکیٹیو نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر اسی طرح تنازعات اور عدالتی کارروائیوں میں الجھا رہا تو آئی سی سی کی رکنیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں