عدالت کا کام کرکٹ چلانا نہیں: آصف اقبال

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں ہے بلکہ ایک پراڈ کٹ بن چکا ہے: آصف اقبال

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان آصف اقبال کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانا عدالت کا کام نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایڈہاک کی بنیاد پر ممکن ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کے لیے مستقل اور منظم طریقۂ کار کی ضرورت ہے جس کے نہ ہونے سے آئے دن تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔

آصف اقبال کے مطابق مستقل انتظامی ڈھانچہ استوار کر کے ہی باہر کی مداخلت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کی جا سکتی ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں ہے بلکہ یہ ایک پراڈ کٹ بن چکا ہے جس کی چمک دمک ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چاہے سیاست داں ہو یا اثر و رسوخ کا حامل کوئی اور شخص، وہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں رہ کر شہ سرخیوں میں رہنا چاہتا ہے اور اگر وہ چیئرمین نہیں بن سکتا تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ بورڈ سے کسی نہ کسی حیثیت میں وابستہ ضرور رہے۔

آصف اقبال نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی بار بار تبدیلی کا منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ آئی سی سی اور دوسرے کرکٹ بورڈز پاکستان کی بات پر یقین نہیں کرتے۔

سابق کپتان کے مطابق ’انھیں یہ پتہ ہے کہ وہ جس چیئرمین سے آج بات کر رہے ہیں وہ چیئرمین اگلی میٹنگ میں نہیں ہوں گے اور نئے چیئرمین نئے موقف کے ساتھ سامنے آئیں گے تو اس صورت میں آئی سی سی اور دوسرے فورمز پر بھی پاکستان کی بات پر سنجیدگی سے نہیں لی جاتی۔‘

اسی بارے میں