’منفی حربےسری لنکا کو لے ڈوبے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محمد طلحہ میں بہترین بولر بننے کی صلاحیت موجود ہے: وقار یونس

سابق کپتان و کوچ وقار یونس نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سری لنکن ٹیم نے پانچوں دن منفی کرکٹ کھیلی۔ اینجیلو میتھیوز ابھی نئے کپتان ہیں لیکن ابھی سے وہ منفی سوچ کے ساتھ کپتانی کر رہے ہیں جو افسوس ناک بات ہے۔

سری لنکن کوچنگ سٹاف میں چمندا واس اور مارون اتاپتو جیسے تجربہ کار لوگ موجود ہیں جبکہ ٹیم میں انٹرنیشنل کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے سنگاکارا اور جے وردھنے بھی شامل ہیں اس کے باوجود انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس طرح کی ہار صرف شرمندگی دیتی ہے۔

پاکستان کا ریوس سویپ، میچ پلٹ دیا

وقار یونس نے کہا کہ ایک جانب ہم لوگ ٹیسٹ کرکٹ کی وکالت کرتے ہیں اور دوسری جانب اس طرح کے منفی حربے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے اور اندھیرا ہوتے ہوئے سری لنکن کھلاڑی تاخیری حربے استعمال کر رہے تھے۔ سری لنکن ٹیم اگر مثبت کرکٹ کھیلتی تو شاید وہ یہ سیریز ایک صفر کے بجائے دو صفر سے بھی جیت سکتی تھی اسے اس شکست سے سبق سیکھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ مصباح الحق کو اس جیت کا کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے مثبت سوچ کے ساتھ یہ میچ کھیلا ۔اظہرعلی اور سرفراز احمد نے غیرمعمولی بیٹنگ کی، جبکہ محمد طلحہ نے متاثر کن بولنگ کی ان میں بہترین بولر بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سری لنکن ٹیم میں تجربہ کار لوگ موجود ہیں اس کے باوجود انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس طرح کی ہار صرف شرمندگی دیتی ہے: وقار یونس

سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ میچ منفی حربے استعمال کر کے جیتے جاسکتے ہیں نہ بچائے جاسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ میچ کی جیت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے کیونکہ اصل کرکٹ یہی ہے اور جس طرح پاکستانی ٹیم نے یہ میچ جیتا اس کا کریڈٹ ٹیم اور کپتان مصباح الحق کو جاتا ہے۔

راشد لطیف نے کہا کہ ٹیم کو اظہر علی اور محمد طلحہ کی شکل میں ملنے والے وسائل بھی انتہائی موثر ثابت ہوئے جب کہ سرفراز احمد نے مشکل صورتِ حال میں عمدہ بیٹنگ کر کے میچ کی سمت متعین کی۔

اسی بارے میں