حکومت مداخلت نہ کرے تو اچھا ہے: عثمان سمیع الدین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’جو بھی حکومت بر سرِ اقتدار آتی ہے وہ اپنی پسند کا شخص کرکٹ بورڈ میں لانا چاہتی ہے‘

پاکستانی کرکٹ کا ہر تنازع ہر بحران ہمیشہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں رہا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ذکا اشرف کو کام روکنے سے لے کر ان کی بحالی تک کے معاملے کو بین الاقوامی میڈیا نے بھی بہت زیادہ اہمیت دی۔

کرکٹ کی مقبول ویب سائٹ کرک انفو پر پاکستان کی کرکٹ پر باقاعدگی سے تجزیہ اور تبصرہ نگاری کرنے والے عثمان سمیع الدین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کا فیصلہ اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں ندیم سڈل کی پٹیشن اس وجہ سے مسترد کی گئی ہے کہ اس پورے معاملے میں انھیں براہ راست کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مستقبل میں اچھی روایت قائم ہو سکتی ہے اور اس رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی کہ کوئی بھی عدالت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف کھڑا ہوجائے۔

عثمان سمیع الدین کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کو فی الحال کرکٹ بورڈ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو استحکام کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق ’پچھلے کئی ماہ کے دوران بورڈ کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے قاصر رہا ہے جن میں کوچ کی تقرری اور ٹی وی نشریاتی حقوق جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی کرکٹ اہم موڑ سے گزر رہی ہے جس میں آسٹریلیا، بھارت اور جنوبی افریقہ مستقبل میں اپنی اجارہ داری سے متعلق انتہائی اہم قدم اٹھانے والے ہیں۔‘

عثمان سمیع نے کہا کہ جب تک صدر مملکت کرکٹ بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ تھے، یہ بات ذہن میں رہتی تھی کہ ان کا کردار غیر سیاسی ہوگا، لیکن ظاہر ہے وزیرِ اعظم کا عہدہ سیاسی ہے تو ان کی جانب سے تقرری سے کرکٹ بورڈ میں سیاست بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جو کچھ بھی یہ ہو رہا ہے یہ طاقت کا کھیل ہے۔ ملک میں خاصے عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کے باوجود کرکٹ بورڈ مالی طور پر مستحکم ہے، لہذا ہر کوئی اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔‘

ادھر خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگار شاہد اختر ہاشمی کا کہنا ہے کہ جو بھی حکومت بر سرِ اقتدار آتی ہے وہ اپنی پسند کا شخص کرکٹ بورڈ میں لانا چاہتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ذکا اشرف نے یہ سوچا تھا کہ حکومت کی تبدیلی انھیں گھر نہ بھیج دے اور انھوں نے عام انتخابات سے تین روز پہلے ہی خود کو پی سی بی کا چیئرمین منتخب کروا لیا۔

شاہد ہاشمی کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ خود مختار ادارہ ہے، لہٰذا اسے اس کی اصل شکل میں رہنے دیا جائے اور سیاسی نہ بنایا جائے۔

ان کے مطابق اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ پہلے ایسوسی ایشنز کی سطح پر الیکشن ہوں اور پھر وہ الیکٹورل کالج کسی ٹیکنوکریٹ کو بورڈ کی باگ ڈور چلانے کے لیے منتخب کرے اور حکومت وقت کو اس معاملے سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔

اسی بارے میں