ذکا اشرف کو غلط ہٹایاگیا تھا: ڈاکٹر ظفر الطاف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چونکہ اس وقت کرکٹ بورڈ کا الیکٹورل کالج مکمل نہیں، لہذٰا نچلی سطح پر اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے: ڈاکٹر ظفر الطاف

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالطاف کا کہنا ہے کہ ذکا اشرف کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ غلط اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے مترادف تھا لیکن بحال ہونے کے باوجود وہ زیادہ عرصہ اس عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔

ڈاکٹر ظفر الطاف نے بی بی سی کو بتایا کہ ذکا اشرف کو ان کے عہدے سے ہٹاتے وقت نہ کوئی نوٹس دیا گیا نہ ان کا موقف سناگیا۔

انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ذکا اشرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر بحال ضرور ہوئے ہیں لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت ہے، لہذٰا یہ ٹکراؤ ان کے آڑے آ سکتا ہے، لہذٰا انھیں فوری طور پر وزیراعظم سے ملاقات کرنی ہوگی جو اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔

ڈاکٹر ظفر الطاف نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اس قدر بگاڑ آ چکا ہے کہ کھیل بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں اور ہر کوئی ترپ کی چال چلنے کے لیے موقعے کی تلاش میں بیٹھا ہے۔ کرکٹ بورڈ کے پاس چونکہ بہت پیسہ ہے لہٰذا شِکرے اس پر ٹوٹ پڑنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ شوق سب کو ہے لیکن کتنے ہیں جو کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟

انگلینڈ کے سابق کپتان ٹونی لوئس اور مائیک بریرلی کرکٹ سے تعلق اور قابلیت کی بنا پر ایم سی سی کے صدر بنے۔ کیا پاکستان میں اس وقت اس طرح کی کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے؟

یہاں تو خود کو مضبوط کرنے کے لیے بے دریغ پیسہ بہانے، آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے بہانے شاپنگ کرنے اور ریئل سٹیٹ دیکھ کر آ جانے کی مثالیں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جمہوری عمل ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے مسائل کا واحد حل ہے۔ چند لوگوں پر مشتمل گورننگ بورڈ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خود پر اعتماد نہیں اور آپ میں اہلیت نہیں اسی لیے ہر طرح کی مراعات دے کر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفرالطاف نے کہا کہ چونکہ اس وقت کرکٹ بورڈ کا الیکٹورل کالج مکمل نہیں، لہٰذا نچلی سطح پر اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور اس جمہوری عمل میں سب کو یکساں مقام دینا ہوگا ۔

انھوں نے کہا کہ کیا کسی میں اتنا حوصلہ ہے کہ بلوچستان کو الیکشن میں شریک ہونے کی اجازت دی جائے؟

بڑی قوتیں ایسا ہرگز نہیں چاہیں گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے لیے روٹیشن پالیسی اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے جس میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دیتے ہوئے چار نائب صدور ہوں جو اپنی باری پر بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں۔

اسی بارے میں