’کرکٹ کے حصے بخرے ہو جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احسان مانی وولف رپورٹ پر عمل کرنے کے حق میں ہیں

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سابق سربراہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے کرکٹ کھیلنے والے تین ملکوں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو زیادہ اختیارات دینے کی تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

کرکٹ کھیلنے والے ان تینوں ملکوں کے بورڈ کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کے امیر ترین بورڈ ہیں۔

آئی سی سی اس متنازعہ منصوبے پر دبئی میں منگل اور بدھ کو ہونے والے اپنے اجلاس میں غور کرنے والی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے اگر آئی سی سی کے مجودہ ڈھانچے میں یہ اصلاحات یا تبدیلیاں نہیں کی گئیں تو وہ کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت نہیں کرے گا۔

لیکن دنیا بھر سے ان مجوزہ تبدیلیوں پر تنقید کی جا رہی ہے اور کرکٹ کے سابق سربراہوں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جس میں کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کی دو لیگ بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا اپنی کارکردگی سے قطع نظر مستقل طور پر پہلی لیگ کھیلنے کے مجاز ہوں گے جب کہ دوسرے ملکوں کو پہلی لیگ میں رکھنے کا فیصلہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

آئی سی سی کے سابق پاکستانی صدر احسان مانی نے آئی سی سی کو خط لکھا ہے جس پر میلکم سپیڈ اور میلکم گرے نے بھی ستخط کیے ہیں۔ اس خط میں آئی سی سی سے کہا گیا ہے کہ ان مجوزہ تبدیلیوں کے مسودے کو واپس لیا جانا چاہیے۔

اس کے بجائے اس خط پر دستخط کرنے والوں نے جن میں ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لوائڈ بھی شامل ہیں کہا ہے کہ آئی سی سی کو سنہ دو ہزار بارہ میں بنائی گئی ولف رپورٹ پر نظر ثانی کرنی چاہیے جس میں کہا گیا تھا کہ آئی سی سی گورننس کے معیار کو بہتر بنائے، بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آزاد ارکان شامل کیے جائیں اور اپنے معاملات کو شفاف بنائے۔

احسان مانی نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر نئی تجاویز کی منظور دے دی گئی تو آئی سی سی کے غیر مستقل ارکان کو 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو گا جو ان کے بجائے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان تقسیم ہو جائے گی.

مانی نے کہا کہ انڈین کرکٹ بورڈ، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور کرکٹ آسٹریلیا کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا۔

اس کے علاوہ سنہ 2015 سے 2023 تک تمام بڑے بڑے مقابلے انگلینڈ ، انڈیا اور آسٹریلیا میں کرائے جائیں گے۔

ان تینوں بورڈز کو میزبانی کی مد میں موصول ہونے والی رقم کے علاوہ بھی آئی سی سی کے فنڈز ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نکتےپر بھی غور کیا جانا ضروری ہے کہ انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کیوں زیادہ رقم درکار ہے۔

دوسرے ملکوں سے کھیلنے پر انڈین کرکٹ بورڈ کو بین الاقوامی اور مقامی میڈیا فیس کی صورت میں پہلے ہی بھاری رقوم ادا کی جاتی ہیں جو کہ اس کی مالی حیثیت برقرار رکھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یہ دنیا کا امیر ترین بورڈ ہے۔

انھوں نے کہا کہ کرکٹ کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے اور غیر مستقل رکن ملکوں کو زیادہ سرمایہ مہیا کیا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر کرکٹ کو امریکہ اور چین میں بھی فروغ دیا جائے اور یہ کھیل اولمپکس میں شامل ہو جائے تو اگلے دس سے پندرہ برس میں کرکٹ سے ہونے والی آمدنی میں کئی گناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے دور اندیشی اور فراخدلی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

سنہ 1991 سے 2001 ایک تک یونائٹڈ کرکٹ بورڈ کے صدر جو بعد میں کرکٹ ساوتھ افریقہ ہو گا جو سنہ 2003 تین میں کرکٹ کے عالمی کپ کے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر علی باخر نے بھی احسان مانی اور میلکم سپیڈ کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا ہے کہ دانشمندانہ راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اکہتر سالہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے ایک علیحدہ خط میں آئی سی سی کے صدر ایلن آئزک کو کہا ہے اگر ان تجاویز پر عمل کیا گیا تو یہ کرکٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ بھارت ، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی طرف سے پیش کردہ یہ مجوزہ تبدیلیاں کرکٹ میں ایسی تقسیم اور لڑائی کا سبب بنیں گی جو پہلے کبھی دیکھی ہیں گئیں۔

انھوں نے کہا کہ آئی سی سی کے رکن ملکوں کو سنہ 1993 سے پہلے جب آسٹریلیا اور انگلینڈ کو ویٹو کے حقوق حاصل تھے اس وقت کرکٹ میں جو تلخی خاص طور پر برصغیر اور ویسٹ انڈیز میں پائی جاتی تھی وہ یاد رکھنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اس وجہ سے وہ احسان مانی کے ساتھ ہم آواز ہیں اور وہ ان کی وولف رپورٹ پر عملدرآمد کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔

علی باخر نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مانی نے اس سلسلے میں پوری کوشش کی ہے اور وہ احسان مانی کی بہت عزت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں