آئی سی سی اصلاحات، ’نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مائیکل اتھرٹن ان تجاویز کے خلاف بولنے والے پہلی برطانوی شخصیت ہیں

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل اتھرٹن نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈھانچے میں تبدیلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تجاویز اس زمانے کی یاد دلاتی ہیں جس زمانے میں بین الاقوامی کرکٹ کی انتظامیہ کو ’امپیریل کرکٹ کانفرنس‘ کہا جاتا ہے۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز نے اپنے ایک کالم میں اتھرٹن نے کرکٹ کے کرتا دھرتا شخصیات کو نصیحت کی ہے کہ وہ سنہ 2012 کی ولف رپورٹ سے رہنمائی حاصل کریں۔

ولف رپورٹ آئی سی سی کے امور چلانے پر ایک آزادانہ تجزیہ تھا جس میں کرکٹ کے موجودہ طریقہ کار میں بہت سے تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں۔

سب سے اہم بات اس رپورٹ میں کہی گئی تھی کہ آئی سی سی کا ایگزیکیٹو بورڈ یا سربراہی بورڈ کو بڑی قوم کے چنگل سے نجات دلانا تھا۔

اس رپورٹ کے صرف ایک سال بعد کرکٹ کھیلنے والے تین بڑے ملک بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈز جنہیں اب ’بگ تھری‘ کا نام بھی دیا جا رہا ہے آئی سی سی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ انھیں کرکٹ کے معاملات چلانے میں مکمل اختیار دیا جانا چاہیے۔

مائیکل اتھرٹن نے لکھا کہ وولف رپورٹ میں جو کچھ کہا گیا ’وہ ایک سب سے ’آئیڈیل‘ چیز ہو گی درحقیقت اسے اب تک آئی سی سی میں سمویا نہیں جا سکا۔ لیکن اگر آپ کھیلوں کے بارے میں بھی اس انداز میں نہیں سوچیں گے تو پھر کس بارے میں سوچیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس تجویز کےلہجے میں اس قدر رعونیت اور غرور ہے کہ اس سے وہ زمانہ یاد آ جاتا ہے جب کرکٹ کی انتظامی کمیٹی کو امپیریل کرکٹ کونسل کہا جاتا تھا۔انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کو جس انداز میں آئی سی سی کو چلایا جا رہا ہے اس پر بھی اعتراض تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال تو بلاآخر پیدا ہونا ہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ شخصیات، سیاست اور نسلی تعصب فیصلہ سازی کے ہر مرحلے میں آڑے آتے ہیں۔ آئی سی سی میں نااہلیت کو تسلیم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ :’ آئی سی سی کی ایک حالیہ میٹنگ میں مجھ بتایاگیا کہ ایک ڈائریکٹر خراٹے لینے لگا۔‘

اتھرٹن نے انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کو بھی مشورہ دیا کہ عالمی کرکٹ کے معاملات میں پوری طرح دلچسپی لے اور ان پر توجہ دے۔

اسی بارے میں