کرکٹ کی ’سلامتی کونسل‘ بنانے پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ gett
Image caption ایلن آئزک نے اس اجلاس کو ایک سنگ میل قرار دیا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے بورڈ نے ایک اہم اجلاس میں ایک پانچ رکنی اعلٰی اختیاراتی ایگزیکیٹو کمیٹی بنانے پر اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے جس میں انڈیا، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو مستقل رکنیت حاصل ہو گی۔

منگل کو دبئی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں سنہ 2017 میں انگلینڈ میں ورلڈ ٹسیٹ چیمپین شپ کرانے کے فیصلے کو یکسر منسوخ کر دیا ہے۔

سولہ رکن ملکوں پر مشتمل آئی سی سی بورڈ کے اجلاس میں ادارے میں مجوزہ تبدیلیوں کے مسودے پر غور کیا گیا جس کی کئی رکن ملکوں کی طرف سے زبردست مخالفت کی جا رہی تھی۔ ان تبدیلیوں میں کرکٹ کھیلنے والے تین بڑے ملکوں انڈیا، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو وسیع انتظامی اور مالی اختیارات دینے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔

آئی سی سی کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق اجلاس میں کئی ایک تجاویز کو یکسر رد کر دیا گیا ہے ، کچھ میں رد و بدل کر کے ان پر اتفاق رائے حاصل کر لیا گیا ہے اور چند ایک پر اپنی اصل حالت میں اتفاق رائِے ہو گیا ہے۔

آئی سی سی کے آج کے اجلاس میں جن اصلاحات یا تبدیلیوں پر اتفاق رائِے ہوا ہے انھیں فروری میں ہونے والے اجلاس میں رائے شماری کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔

اس اجلاس میں جن تجاویز کے حق رائے دی گئی ان میں ایک ٹیسٹ کرکٹ فنڈ بنانے کی تجویز شامل تھی جسے بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے علاوہ تمام کرکٹ کھلینے والے ملکوں میں مساوی طور پر تقسیم کیا جائے گا تاکہ ان ملکوں میں کرکٹ کو فروغ دیا جا سکے۔

ایک اور تجویز جس پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اس کے تحت مستقبل میں ٹور پروگرام باہمی طور پر طے کیے جائیں گے اور متعلقہ ممالک ان پروگراموں پر عمل کرنے کے قانونی طور پر پابند ہوں گے۔

آئی سی سی میں مضبوط قیادت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ بڑے ملک زیادہ موثر کردار ادا کریں اور اس میں بھارت کرکٹ کنٹرول بورڈ مرکزی قائدانہ ذمہ داریاں اٹھائے۔

آئی سی سی کے صدر ایلن آئزک نے کہا کہ یہ دنیائے کرکٹ کے لیے بہت اہم وقت ہے اور یہ بہت قابل قدر بات ہے کہ آئی سی سی بورڈ نے دورس اہمیت کے حامل اصولوں پر اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے جو آنے والوں برسوں میں کرکٹ کے عالمی سطح پر فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اصول ٹسیٹ کرکٹ کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے وضح کیے گیے ہیں اور یہ کرکٹ کھیلنے والے ہر ملک کو اچھی اور بہتر کرکٹ کھیلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔