مائیکل شوماکر کو کوما سے نکالنے کی کوششیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مائیکل شوماکر سنہ 2012 میں حتمی طور پر ریسنگ سے ریٹائر ہوگئے تھے

فارمولا ون کے سات بار چیمپیئن رہنے والے جرمنی کے ریسر مائیکل شوماکر کی مینیجر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر زخمی شوماکر کو کوما سے باہر لانے کے لیے درد کش ادویات کا اثر کم کر رہے ہیں۔

شوماکر کی مینیجر سبین کیم نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ یہ شوماکر کو کوما سے باہر نکالنے کی جانب پہلا قدم ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شوماکر کو کوما سے باہر آنے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

شوماکر کی حالت کے بارے میں جاننے کے لیے میڈیا نے بدھ کو ان کے زخمی ہونے کے ایک ماہ بعد سبین کیم سے رابطہ کیا تھا۔

سبین کیم نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر زخمی شوماکر کو کوما سے باہر لانے کے لیے درد کش ادویات کا اثر کم کر رہے ہیں۔

بیان میں شوماکر کے خاندان کی جانب سے ایک بار پھر کہا گیا ہے کہ ان کی پرائیوسی کا خیال رکھا جائے۔

خیال رہے کہ فارمولا ون کے سات بار چیمپیئن رہنے والے جرمنی کے ریسر مائیکل شوماکر کو گذشتہ برس 29 دسمبر کو فرینچ ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں واقع میربل کے الپائن ریزارٹ میں سکیئنگ کے دوران سر پر چوٹ آئی تھی اور انھیں گرینوبل ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کوما کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔

سکیئنگ کے دوران پھسلنے کی وجہ سے شوماکر کا سر چٹان سے ٹکرایا تھا جس سے ان کا ہیلمٹ ٹوٹ گیا تھا۔

شوماکر کے دماغ سے خون کے لوتھڑے (clot) نکالنے کے لیے ڈاکٹروں نے انھیں گرینوبل ہسپتال میں آپریشن کے بعد کوما کی حالت میں رکھا تھا اور اب ڈاکٹر شوماکر کے دماغ کی سوزش کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مائیکل شوماکر سات بار فارمولا ون کار ریسنگ چیمپیئن رہ چکے ہیں اور ان کے مداح دنیا بھر میں موجود ہیں۔

شوماکر نے سنہ 1991 میں فارمولا ون ریسنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور تین برس بعد پہلی گراں پری ریس جیتی تھی۔

ریسنگ ٹریک پر شوماکر کو جارحانہ ڈرائیور کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہ 2000 سے 2004 تک پانچ سال لگاتار فارمولا ون ریسنگ میں سال کے بہترین ڈرائیور ثابت ہوئے۔

شوماکر نے سنہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا لیکن 2010 میں وہ دوبارہ دنیا کے تیز ترین کھیل میں واپس آئے لیکن جیت ان کے مقدر میں نہیں تھی۔

وہ سنہ 2012 میں حتمی طور پر ریسنگ سے ریٹائر ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں