کرکٹ کی ایسٹ انڈیا کمپنی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرکٹ کھیلنے والے اس کی آمدنی سے کھیلنے لگے تب بھی سب ٹھیک تھا لیکن حاکم اور محکوم کا یہ کھیل نہ جانے کیا رنگ لائے گا

بین الاقوامی کرکٹ کے مالی اور انتظامی معاملات کو اپنی گرفت میں لینے کا عمل کسی ڈان کی کہانی معلوم ہوتا ہے جس میں پیار سے بات منوانا لالچ اور دھمکی سب ہی کچھ موجود ہے۔

بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ نے جب میدان سے باہر اپنی اجارہ داری کو قانونی شکل دیتے ہوئے اسے مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا تو انہیں ہرگز یہ امید نہ تھی کہ کم تر خیال کیے جانے والے ممالک ان کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے لیکن چند ہفتوں کی یہ مزاحمت اب دم توڑتی یا کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

آئی سی سی کے جس اجلاس میں تین ملکوں کے مقابلے پر جو چار ممالک کھڑے تھے ان میں سے ایک بنگلہ دیش اب ایک مختلف موقف کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

بنگلہ دیش کو تین ملکوں کے پیش کردہ حاکمیت کے منصوبے سے اپنی ٹیسٹ رکنیت کو خطرہ محسوس ہورہا تھا کیونکہ اس منصوبے میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ دو حصوں میں منقسم کرکے کھیلی جائے گی جس میں عالمی رینکنگ کی بڑی ٹیمیں آپس میں ہی کھیلیں گی اور بقیہ ٹیموں کی کرکٹ علیحدہ ہوگی تاہم اس نکتے کو آئی سی سی نے قبولیت نہیں بخشا۔

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر خوش ہیں کہ تین بڑوں نے انہیں اگلے دو برسوں میں اپنے ساتھ کھیلنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ آئی سی سی کے حالیہ اجلاس کے موقع پر کسی اتحاد کا حصہ نہیں تھے۔

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کا یہ بدلتا روپ دنیا نے پہلی بار نہیں دیکھا ہے۔ آئی سی سی کی صدارت حاصل کرنے کے لیے بھی اس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن جب وقت گزرگیا تو اس نے کسی بھی ایسے وعدے سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔

یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بنگلہ دیش کو آئندہ ماہ ایشیا کپ اور پھر مارچ میں آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی کرنی ہے اور وہ کسی طور بھی بھارتی مخالفت برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

بنگلہ دیش کی حمایت بگ تھری کی جھولی میں گرنے کے بعد اب پاکستان جنوبی افریقہ اور سری لنکا بچے ہیں۔

سری لنکا بھی بنگلہ دیش کی طرح مالی طور پر مستحکم کرکٹ بورڈ نہیں ہے بلکہ وہ گزشتہ ورلڈ کپ کے بعد ایسی مشکل میں آگیا تھا کہ کرکٹرز کے معاوضے تک ادا نہیں ہوسکے تھے اور اسٹیڈیمز سری لنکن افواج کے حوالے کردیے گئے تھے کہ وہ ان کی دیکھ بھال کرسکیں۔

ان حالات میں اگر سری لنکا بھی بگ تھری سے جاملا تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔اس صورتِ حال میں پاکستان اور جنوبی افریقہ رہ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سری لنکا بھی بنگلہ دیش کی طرح مالی طور پر مستحکم کرکٹ بورڈ نہیں ہے

جنوبی افریقہ بھارت نواز کرکٹ بورڈ کے طور پر مشہور رہا ہے لیکن ہارون لورگاٹ اور بی سی سی آئی کے درمیان اختلافات نے دونوں کرکٹ بورڈز کو دور کردیا ہے اس دوری کے دوران جنوبی افریقہ اور پاکستان کی قربت بڑھی اور پاکستانی ٹیم کو جنوبی افریقہ میں مختصر ون ڈے سیریز کھیلنے اور کچھ کمانے کا موقع ہاتھ آگیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک جانب وہ ملک میں امن وامان کی بدترین صورتِ حال میں بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے محروم ہے تو دوسری جانب بھارت اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے بھی تیار نہیں لیکن آئی سی سی کے اجلاس میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس نے دو طرفہ سیریز کھیلنے کی خواہش ظاہر کی یہ اور بات ہے کہ اسے پہلے کی طرح حکومت کی اجازت سے مشروط کردیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے جب اس کی ضمانت چاہی تو بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن کو جو وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کررہے تھے یہ بات بری لگ گئی۔

بھارت کو یہ زعم ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کو وہ سب سے زیادہ پیسہ دے رہا ہے اور اسی تناسب سے اسے یہ واپس بھی چاہیے لیکن ایسوسی ایٹ ممالک کے فنڈز میں سے تین سو ملین ڈالرز کم کرکے اپنے اور آسٹریلیا اور انگلینڈ کے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کا کوئی معقول جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

کرکٹ کھیلنے والے اس کی آمدنی سے کھیلنے لگے تب بھی سب ٹھیک تھا لیکن حاکم اور محکوم کا یہ کھیل نہ جانے کیا رنگ لائے گا۔

اسی بارے میں