پھل فروش فٹبالر کو محنت کا پھل مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ tariq lutfi
Image caption پاکستان میں کئی باصلاحیت فٹبالرز موجود ہیں جو اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کے بل پر بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلا سکتے ہیں: طارق لطفی

زمانۂ طالب علمی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ پھلوں کا ٹھیلہ لگا کر گھر کی معاشی مشکلات کم کرنے والے محمد عادل کو اپنی محنت کا پھل مل گیا ہے۔

21 سالہ محمد عادل نے انٹرنیشنل فٹبالر بننے کا جو خواب دیکھ رکھا تھا وہ آج حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔

کرغزستان کے چیمپیئن کلب ایف سی ڈورڈئی نےان کے ساتھ کھیلنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔

محمد عادل کا تعلق بہاولپور سے ہے۔ زندگی آسان نہ تھی لیکن فٹبال سے جنون کی حد تک لگاؤ کی وجہ سے وہ کسی نہ کسی طرح کھیلنے کا وقت نکال لیتے تھے کہ ایک دن پاکستان الیکٹرون لمیٹڈ ( پی ای ایل ) نے انھیں اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔

پی ای ایل کی ٹیم پاکستان پریمیئر لیگ سے باہر ہوگئی لیکن محمد عادل کی غیر معمولی صلاحیتیں کے آر ایل کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوگئیں اور وہ تین سال سے کے آر ایل کی فتوحات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

کے آر ایل کے ہیڈ کوچ طارق لطفی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تین سال سے کے آر ایل کے کوچ ہیں جو اس وقت پاکستان پریمیئر لیگ میں ٹائٹل جیتنے کی ہیٹ ٹرک کے قریب آ چکی ہے۔

ان کے مطابق محمد عادل ٹیم کے اہم کھلاڑی ہیں۔ وہ دونوں ونگز پر کھیلنے کی یکساں مہارت رکھتے ہیں ان کے پاس بال کنٹرول اور سپیڈ ہے جس سے وہ حریف ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔

طارق لطفی کا کہنا ہے کہ کے آر ایل نے گزشتہ سیزن میں اے ایف سی پریذیڈنٹ کپ کا فائنل کھیلا تھا ۔ڈورڈئی کلب محمد عادل کے کھیل سے بہت متاثر ہوا تھا جس کے بعد جب قومی ٹیم کرغستان گئی تھی اس وقت بھی وہ اچھا کھیلے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ یہ معاہدہ عمل میں آیا۔

ڈورڈئی کی ٹیم کرغستان کی لیگ میں دوسرے نمبر پر آنے کے سبب اس سال اے ایف سی چیمپئنز لیگ نہیں کھیل سکے گی لیکن محمد عادل کو یقین ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈورڈئی کو اگلے سیزن میں چیمپئنز لیگ میں لانے کی کوشش کریں گے۔

طارق لطفی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدا ہے اور پاکستان میں کئی باصلاحیت فٹبالرز موجود ہیں جو اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کے بل پر بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں