ہم بھی اپنا فائدہ دیکھیں گے: پی سی بی چیئرمین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ہم تو یہ چاہتے ہیں کرکٹ کے کھیل کو کسی طور نقصان نہیں ہونا چاہیے‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی سی میں ہونے والی مجوزہ تبدیلیوں پر ڈٹ توگئے تھے لیکن اب انھیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ مزید کس حد تک ڈٹے رہ سکتے ہیں۔

آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کے بعد جمعے کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کے تین ممالک بھارت انگلینڈ اور آسٹریلیا کو زیادہ اختیارات دینے کے منصوبے پر پی سی بی کا لائحہ عمل ملک اور کرکٹ کے مفاد میں ہو گا۔

آئی سی سی کے 28 اور 29 جنوری کے اجلاس میں چار ممالک پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور بنگلہ دیش نے آئی سی سی کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے متنازع مسودے کی سخت مخالفت کی تھی جس کے باعث اس مسودے کی کچھ شقوں میں ردو بدل بھی کیا گیا۔ بعد ازاں بنگلہ دیش نے اس ’بگ تھری‘ یعنی تین بڑوں کو زیادہ اختیارات دینے کے منصوبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔

اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا ان تین بڑے ممالک کے علاوہ ہر ملک کے کرکٹ شائقین ان تبدیلیوں کے مخالف ہیں اور بنگلہ دیش میں بھی اس کی مخالفت تھی اور جب تک ہم اکٹھے تھے تو بنگلہ دیش کا اور ہمارا مؤقف ایک ہی تھا لیکن اب انھوں نے بگ تھری کے اس منصوبے کو تسلیم کر لیا ہے۔

ذکا اشرف نے کہا کہ بنگلہ دیش نے اپنا کوئی فائدہ دیکھا ہوگا لیکن دیکھنا یہ چاہیے کہ یہ فائدہ کم عرصے کے لیے ہے یا زیادہ عرصے کے لیے۔انھوں نے کہا کہ ہم بھی یہی دیکھیں گے کہ ہمارے بورڈ کے لیے کون سا راستہ فائدہ مند ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے مطابق ’پیسہ کوئی بری چیز نہیں ہم تو یہ چاہتے ہیں کرکٹ کے کھیل کو کسی طور نقصان نہیں ہونا چاہیے۔‘

ذکا اشرف چند روز پہلے ہی عدالت کے ایک فیصلے کے بعد پی سی بی کے چیئرمین کے عہدے پر بحال ہوئے ہیں اور ان کی بحالی کے خلاف وزارت بین الصوبائی میں درخواست دائر کی گئی تھی لیکن جمعے اس درخواست کو واپس لے لیا گیا۔ ذکا اشرف نے اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا اور اسے خوش آئند قرار دیا۔

ذکا اشرف نے کہا کہ انھیں وزیر اعظم نواز شریف کی رہنمائی کی ضرورت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم انھیں وقت دیں تاکہ وہ ان کی رائے لے سکیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ آئی سی سی نے اس مسودے میں جو تبدیلیاں کی گئیں ہیں انھیں پی سی بی کے گورننگ بورڈ کے سامنے رکھا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ کیا اس سے کرکٹ کے کھیل اور پاکستان کے مفاد کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا اور پھر سب کی رائے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائےگا۔

اسی بارے میں