کیا ذ کا اشرف کو ہٹایا جانا آسان ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذکا اشرف کو گذشتہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین کے عہدے پر بحال کر دیا تھا

گزشتہ دنوں حکومتِ پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل واپس لیے جانے کے بعد ذکا اشرف مبارک سلامت کے شور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر دوبارہ فائز ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے بھی انھیں اپنے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا لیکن اس کے باوجود انھیں ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کی قیاس آرائیوں میں کمی نہیں آئی بلکہ ہر دن اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ چونکہ ذکا اشرف ’موجودہ حکومت کے آدمی‘ نہیں ہیں لہٰذا وزیرِاعظم پاکستان، جو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بن چکے ہیں، اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی بھی وقت بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر اپنا آدمی لا سکتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم یک جنبشِ قلم ذکااشرف کو گھر بھیج دیں گے؟ قانونی ماہرین اسے اتنا آسان نہیں سمجھتے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں ذکا اشرف کی وکالت کرنے والے افنان کریم کنڈی کے پاس اس ضمن میں ٹھوس دلائل موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’پیٹرن صرف چیئرمین کو نہیں ہٹاسکتے بلکہ انھیں پورا بورڈ ختم کرنا ہوگا، لیکن اس کے لیے تین نکات لازمی ہیں اول یہ کہ کرکٹ بورڈ میں انتہائی سنگین نوعیت کی مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہوں۔ دوسرا یہ کہ ان بے ضابطگیوں کے نتیجے میں پورا بورڈ غیرفعال اور ناکارہ ہوچکا ہو اور تیسرا یہ کہ ان تمام کا واضح ثبوت موجود ہو۔‘

افنان کریم کنڈی کے مطابق حکومت عدالتی کارروائی کے دوران یہ واضح کرچکی ہے کہ ان تین میں سے کوئی ایک بات بھی اِس وقت موجود نہیں ہے۔

افنان نے کہا ’حکومت خود عدالت میں تحریری طور پر یہ کہہ چکی ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور اس نے کرکٹ بورڈ میں کسی قسم کی کوئی مالی بدعنوانی نہیں پائی ہے ۔اس کا ہر سال چارٹرڈ فرم کے ذریعے باقاعدہ آڈٹ کرایا جاتا ہے لہذا اب حکومت کے لیے اپنا موقف بدلنا یوٹرن کے مترادف ہوگا۔‘

یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ آئی سی سی کی منظوری سے نافذ کیے گئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے دو ہزار تیرہ کے آئین میں حکومتی مداخلت ختم کی گئی ہے۔ دو ہزار سات کے آئین میں یہ نکتہ موجود تھا کہ پیٹرن جو اسوقت صدر مملکت تھے وہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو ہٹاسکتے تھے۔

افنان کریم کنڈی یہ نکتہ بھی اٹھاتے ہیں کہ اسپورٹس اب صوبائی معاملہ ہے اسی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بین الصوبائی رابطے کی وزارت سے منسلک کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد وہ ادارے جو وفاق کے تحت نہیں آتے ان کا کنٹرول مشترکہ مفادات کی کونسل کے پاس ہے لہذا اس کونسل کو اعتماد میں لیے بغیر کرکٹ بورڈ کے معاملے میں کوئی بھی قدم غیرآئینی ہوگا۔‘

یہ قانونی نکات اپنی جگہ لیکن پاکستان میں قانون کی عمل داری اور آئین کی پاسداری اسپورٹس میں بہت کم دیکھنے میں آئی ہے اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن میں حکومتی مداخلت پر پاکستان کی رکنیت معطل کرنے کی دھمکی کے باوجود یہ حکومتی مداخلت ختم نہیں ہوئی ہے۔

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے اختررسول کا پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر بن جانا اس ضمن میں دوسری مثال ہے جن کے الیکشن کو سابق اولمپینز کی بڑی تعداد نے ایک مذاق قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

یہاں نادرا اور پیمرا کے چیئرمینوں کو گھر بھیج دینے کی مثالیں بھی موجود ہیں جنہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور بحال ہوئے لیکن پھر بھی اپنے عہدوں پر کام نہ کرسکے۔

ایک ایسے وقت میں جب آئی سی سی پر تین ملکوں کی حکمرانی کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ حتمی فیصلے تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے کوئی بھی تبدیلی پہلے سے آئی سی سی میں کھوئے ہوئے پاکستانی وقار کو مزید متاثر کردے گی۔

یاد رہے کہ ذکا اشرف اس حساس معاملے پر وزیراعظم سے ملاقات کی بار بار خواہش ظاہر کرچکے ہیں لیکن انہیں وزیراعظم کی دوسری اہم ترین مصروفیات کے سبب وقت نہیں مل پارہا ۔

اس صورتحال سے کہیں ایسا نہ ہو کہ وزیراعظم کوچیئرمین کی تبدیلی کے کاغذ پر دستخط کرنے کا وقت مل جائے کیونکہ پاکستانی سیاست سے جڑے پاکستان کرکٹ بورڈ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں