’کیون پیٹرسن کا کریئر ختم‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیٹرسن نے 104 ٹیسٹ میچوں میں 47 رنز کی اوسط سے 8181 رنز بنا رکھے ہیں

انگلش کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ معروف برطانوی بلے باز کیون پیٹرسن کو اب انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

33 سالہ کیون پیٹرسن تمام فارمیٹس میں انگلینڈ کے کامیاب ترین بلے باز ہیں تاہم وہ ٹیم کے اندر کئی تنازعوں کا شکار رہے ہیں۔

انگلش کرکٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر پال ڈاؤنٹن نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ برطانوی ٹیم کی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ ٹیم کی اخلاقیات کو بھی ٹھیک کیا جائے۔

کیون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ کھیلنا جاری رکھیں گے تاہم انہیں افسوس ہے کہ وہ انگلینڈ کے لیے نہیں کھیل سکیں گے۔

پیٹرسن نے 104 ٹیسٹ میچوں میں 47 رنز کی اوسط سے 8181 رنز بنا رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 136 ایک روزہ میچوں میں 4440 رنز جبکہ 37 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 1176 رنز بنائے ہیں۔

2004 میں انگلینڈ کے لیے کھیلنا شروع کرنے والے کیون پیٹرسن نے کہا کہ ’اپنے ملک کے لیے کھیلنا میرے لیے فخر کی بات ہے۔‘

’جب بھی میں نے انگلینڈ کی شرٹ پہنی، وہ لمحہ میرے لیے باعثِ فخر رہا تھا اور یہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔‘

حال ہی میں انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف ایشز سیریز میں پانچ صفر کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پیٹرسن نے انگلینڈ کے لیے اس ٹونامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنائے، لیکن ان پر کئی مرتبہ آؤٹ ہونے کے انداز کی وجہ سے تنقید کی گئی۔

کیون پیٹرسن کا کریئر کئی مرتبہ تنازعات کا شکار رہا ہے۔

پیٹرسن کو سنہ 2012 میں اس وقت ٹیم سے نکال دیا تھا جب انھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے دوران جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم اور بالخصوص کپتان اینڈریو سٹراؤس کے بارے میں ’اشتعال آمیز‘ ٹیکسٹ میسج بھیجے تھے۔

اس کے علاوہ 2008 میں انہیں ٹیم کی کپتانی سونپی گئی تاہم پانچ ماہ بعد ہی کوچ پیٹر مورز سے کشیدگی کے باعث انہوں نے یہ ذمہ داری بھی چھوڑ دی۔

2010 میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ کامیاب رہا تو انہیں ٹونامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔ یہ انگلینڈ کی مقررہ اوورز کی کرکٹ میں پہلی اہم ٹرافی تھی۔

مئی 2012 میں کیون پیٹرسن نے انٹرنیشنل کرکٹ میں مقررہ اوورز کے فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کیا تھا تاہم اسے دو ماہ بعد واپس لے لیا تھا۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو اب ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے دورے کرنا ہیں۔

اسی بارے میں