اجارہ داری کی کوششیں کرکٹ کے لیے خطرناک: لارڈ وولف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلیا اور انگلینڈ کی حکومت اپنے بورڈوں کو کھلی چھٹی دینے پر پچھتائیں گی: لارڈ وولف

انگلینڈ اور ویلز کےسابق چیف جسٹس اور آئی سی سی میں جامع اصلاحات کےلیے تیار ہونے والی رپورٹ کے مصنف لارڈ ہیری وولف نے کہا ہے کہ اگر انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کی طرف سے آئی سی سی پر اجارہ داری حاصل کرنے کی کوششیں کامیاب ہوگئیں تو آئی سی سی ایک پرائیویٹ ممبر کلب بن کر رہ جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ ’بگ تھری‘ کی طرف سے آئی سی سی پر اجارہ داری کی کوششیں صرف اور صرف زیادہ رقم کےحصول کی کوشش ہے۔

’آئی سی سی میں تصادم کے بیج بو دیے گئے‘

کرکٹ کی ایسٹ انڈیا کمپنی

لارڈ وولف نے آئی سی سی کے کہنے پر 2011 میں انٹرنیشل کرکٹ کونسل کی تنظیم کے بارے میں ایک جامع رپورٹ ترتیب دی تھی۔ لارڈ وولف نے برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلگراف کو دیےگئے ایک انٹرویو میں کہا کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی حکومتوں نے اپنے کرکٹ بورڈوں کو آئی سی سی پر اجارہ داری کی کوششوں کی اجازت دے کر اچھا نہیں کیا اور وہ اس پر پچھتائیں گی۔

لارڈ وولف کے مطابق پاکستانی عوام کو کرکٹ کے معاملات میں بھارتی اثر و رسوخ میں اضافہ پسند نہیں آئےگا اور وہ اس کے لیے انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ذمےدار گردانیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سنگا پور میں آٹھ فروری کو تین ملکوں کو کرکٹ پر اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی تو دوسرے ممالک اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور اس سے کرکٹ کو انتہائی نقصان پہنچےگا۔

’بگ تھری پلان‘ یعنی کرکٹ کے تین بڑے ممالک انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر اجارہ داری کے مسودے پر آٹھ فروری کو آئی سی سی کے سنگاپور میں ہونے والے اجلاس پر بات ہوگی۔ پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔

’بگ تھری‘ کے منصوبے کی کامیابی کے لیے انہیں پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا میں سے کسی ایک ممبر کا ووٹ درکار ہے۔ ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، زمبابوے، اور بنگلہ دیش بگ تھری کے منصوبے کے حامی ہیں۔

لارڈ ہیری وولف نے کہا: ’یہ کرکٹ کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک صورتِ حال ہے، اور یہ رجعت پسندانہ اقدام ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت آئی سی سی کے فنڈز میں زیادہ حصے کا مطالبہ کر رہا ہے

انہوں نے کہا کہ ’بگ تھری‘ کے منصوبے کے تحت ساری طاقت ان تین بورڈوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو جائےگی اور دوسرے ممبران کی کوئی طاقت ہوگی، نہ سنوائی۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو مان لیاگیا تو آئی سی سی ایک عالمی تنظیم سے سکڑ کر ایک چھوٹا سا پرائیویٹ ممبر کلب بن جائے گی۔

جسٹس لارڈ وولف نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت تین ملکوں پر مشتمل آئی سی سی کی ایگزیکٹیو کمیٹی تمام فیصلے کرنے کی مجاز ہوگی۔

لارڈ وولف نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی بڑی تنظیم اس طرح کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی تجویز نہیں دیکھی جو تمام فیصلے کرنے کی مجاز ہو۔

اسی بارے میں