’بگ تھری کی اجارہ داری کرکٹ کے لیے تباہ کن‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس بات کو کیسے مان لیا جائے کہ پوری دنیا کی کرکٹ صرف تین ممالک چلائیں گے: شہر یار خان

پاکستان کرکٹ بورڈ کے دو سابق سربراہوں لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا اور شہر یار خان نے آئی سی سی میں پاکستان کے اصولی موقف کو سراہتے ہوئے تین ممالک کی اجاری داری کے منصوبے کی منظوری کو کرکٹ کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیرضیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم ترین معاملے پر حکومتی رویہ افسوسناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم اگر کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بن گئے ہیں تو انھیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کو ملاقات کا وقت دینا چاہیے تھا۔ موجودہ صورت حال میں کرکٹ بورڈ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن جو کچھ ہوا اس میں کرکٹ بورڈ نہیں حکومت قصور وار ہے۔ آئی سی سی میں پاکستانی موقف پیش کرنے کا کریڈٹ ذکا اشرف کو جاتا ہے اور پاکستان کو اس موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے۔

توقیر ضیا نے کہا کہ جنوبی افریقہ کو پیسہ اور کرکٹ دونوں چاہیے اسی لالچ میں اس نے پاکستان اور سری لنکا کا ساتھ چھوڑا۔ انگلینڈ جوڑ توڑ کا ماہر ہے اس نے یقیناً جنوبی افریقہ کو مائل کیا ہوگا جبکہ بھارتی آئی پی ایل بھی جنوبی افریقہ کو اپنی طرف کھینچنے کا سبب بنی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ انگلینڈ اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کا اس وقت برا حال ہے جو ملک سے باہر شکست سے دوچار ہو رہی ہیں انھیں اپنی حیثیت کا اندازہ ہونا چاہیے۔

توقیرضیا نے کہا کہ یہ جنگ نہیں کہ علاقے واپس نہ کیے جائیں پاکستان اب بھی کچھ نہ کچھ یقین دہانیاں حاصل کرسکتا ہے۔ دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کرکٹ میں ایک اہم ملک ہے وہ بنگلہ دیش اور زمبابوے نہیں ہے جسے آسانی سے نظرانداز کردیا جائے۔

شہریارخان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ وقتی طور پر یقیناً تنہا رہ گیا ہے لیکن اسے اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے اور اس منصوبے کی مخالفت جاری رکھنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کو کیسے مان لیا جائے کہ پوری دنیا کی کرکٹ صرف تین ممالک چلائیں گے۔ یہ کرکٹ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں