بگ تھری کے فیصلے عدالت میں چیلنج ہو سکتے ہیں: مانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سری لنکا اور پاکستان اگلا قدم کیا ہو گا یہ بہت اہم بات ہوگی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ بگ تھری کا اقدام آئی سی سی کے آئین کی خلاف ورزی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا انحصار سری لنکا اور پاکستان پر ہے۔

احسان مانی نے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ آئی سی سی میں تین ملکوں نے اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے جو بھی فیصلے کیے ہیں وہ صریحاً آئی سی سی کے آئین کے خلاف ہیں۔

کرکٹ کی منڈی میں کاروباری سودے

انھوں نے کہا کہ ان فیصلوں کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے لیکن یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کوئی اس معاملے کو آگے بڑھائے۔

احسان مانی نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ پاکستان اور سری لنکا میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں۔

احسان مانی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اور فیفا میں اراکین کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے پرکشش پیشکشوں کے معاملات پر گرفت ہوئی ہے لیکن آئی سی سی میں ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے ان اطلاعات پر بھی سخت حیرانی ظاہر کی کہ سری نواسن آئی سی سی کی صدارت سنبھالنے کے بعد بھی بی سی سی آئی کے صدر کا عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔

احسان مانی نے سوال کیا کہ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں؟ کیا سری نواسن ہی مستقبل میں میچز اور پیسے کی تقسیم کو کنٹرول کرینگے اور جس نے ان کا ساتھ دیا ان پر ہی نظر کرم رہے گی۔

احسان مانی نے کہا کہ آئی سی سی کے اجلاس سے قبل سری لنکا اور جنوبی افریقی کرکٹ بورڈز نے ان سے رابطہ کیا تھا جنھیں انہوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ تینوں ممالک اس اجلاس کو ایک ہفتہ آگے بڑھانے کی کوشش کریں تاکہ دباؤ دوسرے ممالک کی جانب منتقل ہو سکے اور اس دوران تینوں ممالک قانونی طور پر پابند ہوکر مفاہمت کی یادداشت پر متفق ہوں اور اپنا ایک ترجمان بنائیں جو بگ تھری سے بات کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ تینوں ممالک اکٹھےرہتے تو بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن جنوبی افریقہ نے کرکٹ کا نہیں اپنے فائدے کا سوچا۔‘

احسان مانی نے کہا کہ اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکا اور پاکستان کا اگلا قدم بہت اہم ہوگا۔

اسی بارے میں