ذکا اشرف کا دور ختم، نجم سیٹھی کی واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس اعلان کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کی ایک شق میں ترمیم بھی کی گئی ہے

پاکستان کے وزیراعظم اور کرکٹ بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ میاں محمد نواز شریف نے پی سی بی کا گورننگ بورڈ تحلیل کر دیا ہے۔

اس کے نتیجے میں ذکا اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور کرکٹ بورڈ کے امور چلانے کے لیے 11 رکنی انتظامی کمیٹی قائم کردی گئی ہے اور نجم سیٹھی کو اس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔

کرکٹ بورڈ کے آئین کی ایک شق میں ترمیم کے تحت انتظامی کمیٹی کا چیئرمین ہی کرکٹ بورڈ کا چیئرمین ہو گا۔

کیا ذ کا اشرف کو ہٹایا جانا آسان ہے؟

ذکا اشرف کے خلاف حکومتی درخواست واپس لے لی گئی

حکومت کا ذکا اشرف کی بحالی چیلنج کرنے کا فیصلہ

نجم سیٹھی نے اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ نجم سیٹھی 15 جنوری سے پہلے کرکٹ بورڈ کی عبوری کمیٹی کے سربراہ تھے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کمیٹی کو ختم کر کے ذکا اشرف کو ان کے عہدے پر بحال کیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے برطرف چیئرمین ذکاء اشرف نے کہا ہے کہ انھیں برطرفی کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن نھیں ملا لیکن ’جمہوری حکومت کے ہاتھوں کرکٹ بورڈ میں جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کی ایک شق میں ترمیم بھی کی گئی ہے۔

ذکا اشرف کو ان کے عہدے سے ہٹایا جانا غیرمتوقع نہیں ہے۔آئی سی سی کے منظور شدہ آئین کے تحت خود کو چار سال کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین منتخب کرانے کے بعد سے وہ مشکل میں گھرے ہوئے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد حکومت نے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سونپ دی تھی لیکن بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ذکا اشرف کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا۔

حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن بعد میں درخواست واپس لے لی تھی جس کے بعد اس بات کے امکانات روشن ہوگئے تھے کہ حکومت خود ہی ذکا اشرف کو ان کے عہدے سے ہٹادے گی۔

ذکااشرف کو ہٹائے جانے کے لیے حکومت آئی سی سی کے اجلاس کا انتظار کر رہی تھی جس میں ذکا اشرف شرکت کے لیے سنگاپور گئے تھےاور وہ پیر کی علی الصبح ہی وطن واپس پہنچے تھے۔

ذکا اشرف کو صدر آصف علی زرداری نے جو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن تھے 2011 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگی دور میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق ہونے کے سبب ذکا اشرف کا اس عہدہ پر رہنا ممکن نہ تھا اور انہیں اسی کی قیمت چکانی پڑی ہے۔

یاد رہے کہ جمعے 31 جنوری کو وفاقی حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف کی بحالی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست واپس لے لی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت کو انتظامی اختیارات استعمال کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے چوہدری ذکاء اشرف کی بحالی کی درخواست پر اُنھیں 15 جنوری کو اپنے عہدے پر بحال کر دیا تھا جس کی بعد نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم کی جانے والی پاکستان کرکٹ بورڈ کی عبوری کمیٹی کو ختم کردیا گیا تھا۔

ذکا اشرف کا ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت میں جانے کا فیصلہ قانونی لحاظ سے نوٹیفیکیشن دیکھ کر کریں گے: ذکا اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ کے برطرف چیئرمین ذکا اشرف نے کہا ہے کہ انھیں برطرفی کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن نہیں ملا، لیکن یہ سب آئین سے متصادم اور غیر جمہوری اقدام ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کر کے فوراً ایسا فیصلہ کیا گیا۔

’جمہوری حکومت کے ہاتھوں کرکٹ بورڈ میں جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ اس سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

’آئی سی سی کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ بورڈ میں حکومت کی مداخلت بالکل نہیں ہونی چاہیے اور منتخب بورڈ امور چلائے، بگ تھری کے معاملات کے بعد یہ کر کے بورڈ کو مزید کمزور کر دیا گیا ہے کیونکہ اب آئی سی سی کی چیئرمین شپ بھارت کے پاس ہے۔‘

ذکا اشرف نے کہا کہ پیٹرن نے نجم سیٹھی کے حوالے سے کیا لکھا، معلوم نہیں اور وہ عدالت میں جانے کا فیصلہ قانونی لحاظ سے نوٹیفیکیشن دیکھ کر کریں گے۔

ذکا اشرف نے بتایا کہ آج پیر کو پی سی بی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں ہیڈ کوچ اور دوسرے کوچز کا انتخاب کرنا تھا لیکن اب پیٹرن ان چیف اسے دیکھیں گے۔

ذکااشرف کی برطرفی کے نوٹیفکیشن میں کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نوٹیفکیشن جاری ہونے کے فوری بعد نجم سیٹھی کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا

ذکا اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین کے عہدے سے ہٹائے جانے اور بورڈ کو تحلیل کرنے کا حکم جس نوٹیفکیشن کے ذریعے عمل میں آیا ہے اس میں لکھا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینیجمنٹ کے بہت ہی سنجیدہ نوعیت کے مسائل ہیں جو اس ادارے کے قواعد وضوابط سے مطابقت نہیں رکھتے یہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے کہ مینیجمنٹ کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ ادارہ ہر سطح پر کرکٹ کو منظم کر سکے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم جو اب آئین کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ بھی ہیں، فوری طور پر ایک مینیجمنٹ کمیٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہیں جو کرکٹ کے معاملات چلائے گی۔

نوٹیفکیشن میں کمیٹی کے جن ارکان کے نام شامل ہیں وہ شہریار خان، نجم عزیز سیٹھی، ظہیرعباس، نویداکرم چیمہ، شکیل شیخ، اقبال قاسم، یوسف کھوکھر اور سیکریٹری سپورٹس ہیں۔

نوٹیفکیشن کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی انہی میں سے ایک کو چیئرمین منتخب کر لے گی۔

اس کمیٹی کی مدت چار ماہ سے زائد نہیں ہوگی لیکن سرپرستِ اعلیٰ اس میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ڈپٹی سیکریٹری سپورٹس کے دستخط سے جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن میں یہ کہا گیا ہے کہ اس حکم نامے سے متاثرہ شخص 30 دن کے اندر وزیراعظم سے رجوع کر سکتا ہے جس پر وزیراعظم اسے سننے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں