میچ فکسنگ کا کوئی واقعہ نہیں ہوا

کرکٹ
Image caption پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں پہلے بھی میچ فکسنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں میچ فکسنگ کے الزام کو سختی سے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ بورڈ کا اینٹی کرپشن یونٹ ہر میچ پر کڑی نظر رکھتا ہے اور اس قسم کا کوئی بھی واقعہ نہیں ہوا۔

یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا تھا جب سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے میچ کی کمنٹری کے دوران اور پھر ایک ٹی وی چینل پر سیالکوٹ اسٹالینز اور کراچی ڈولفنز کا میچ فکسڈ ہونے کا شک ظاہر کیا اور یہ بھی کہا کہ سیالکوٹ اسٹالینز کے کوچ اعجاز جونیئر نے بھی اسی شک وشبے کا اظہار ان سے گفتگو کے دوران کیا لیکن اعجاز جونیئر نے اس کی تردید کردی اور کہا کہ انھوں نے یہ بات لوگوں کے حوالے سے کہی تھی کہ وہ اس میچ پر شک کر رہے ہیں۔

یہ میچ اتوار کو سیالکوٹ اسٹالینز اور کراچی ڈولفنز کے درمیان کھیلا گیا تھا جس میں سیالکوٹ کی ٹیم اکانوے رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی اور کراچی نے چھ وکٹوں سے میچ جیتا تھا۔اس شکست کا سیالکوٹ کی ٹیم پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا جو پہلے ہی کوارٹرفائنل میں پہنچ چکی تھی۔

باسط علی کی جانب سے میچ پر شک وشبے کے اظہار پر سیالکوٹ اسٹالینز کے کپتان شعیب ملک نے سخت احتجاج کیا تھا اور جمعرات کے روز سیالکوٹ اور اسلام آباد لیپرڈز کے میچ میں سیالکوٹ کے کھلاڑیوں نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں جبکہ اسی احتجاج کے نتیجے میں باسط علی کو سیالکوٹ کے میچ کی کمنٹری سے ہٹا دیا گیا تھا۔

شعیب ملک نے جمعرات کے روز میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے یقین دلا دیا تھا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے اور سیالکوٹ کی ٹیم کے ساتھ انصاف ہوگا۔

شعیب ملک نے کہا کہ وہ اس معاملے میں بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ ملک کی بدنامی نہیں چاہتے۔

دوسری جانب سابق ٹیسٹ کرکٹر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سے اب تک تمام فرسٹ کلاس میچوں کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں پہلے بھی میچ فکسنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دو ہزار پانچ میں منعقدہ قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں بھی میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آئے تھے اور شعیب ملک پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی عائد کی تھی جنہوں نے کراچی زیبرا کے خلاف سیالکوٹ کو جان بوجھ کر ہرایا تھا کیونکہ وہ لاہور کی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر دیکھناچاہتے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا اس وقت یہ کہنا تھا کہ شعیب ملک نے پیسے کے لیے میچ نہیں ہارا بلکہ وہ ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور فیصلوں پر خفا تھے تاہم ان کی اس حرکت سے ملک کی بدنامی ہوئی تھی۔

اسی بارے میں