انڈر 19 ورلڈ کپ جیتنا چاہتا ہوں: سمیع اسلم

Image caption سمیع اسلم کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ اگر وہ اپنی عمدہ کارکردگی جاری رکھیں تو جلد ہی قومی ٹیم میں آ سکتے ہیں

انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان سمیع اسلم کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بنیں۔

متحدہ عرب امارات میں جمعے سے شروع ہونے والے انڈر19 ورلڈ کپ میں پاکستان گروپ اے میں بھارت، اسکاٹ لینڈ اور پاپوا نیوگنی کے ساتھ شامل ہے اور اس کا پہلا میچ 15 فروری کو بھارت کے خلاف ہے۔

18 سالہ سمیع اسلم بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے اوپننگ بیٹسمین ہیں اور وہ اس وقت پاکستان کے سب سے باصلاحیت نوجوان بیٹسمین خیال کیے جاتے ہیں جس کا ثبوت ان کی مستقل مزاج کارکردگی ہے جس نے انہیں دنیا بھر میں انڈر 19 کی سطح پر سب سے زیادہ رنز بنانے والا بیٹسمین بنا دیا ہے۔

سمیع اسلم نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مستقل مزاجی سے رنز کرنے کی وجہ کھیل پر ان کی مکمل توجہ ہے وہ سنچری کر کے بھی یہ نہیں سوچتے کہ ان کا کام ختم ہوگیا ہے، بلکہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی بڑی اننگز ٹیم کے کام آئے۔

سمیع اسلم نے 2012 کے ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے خلاف 134 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ وہ میچ ٹائی ہو گیا تھا۔

2012 ہی میں انہوں نے جنوبی افریقی انڈر 19 ٹیم کے خلاف 112 رنز کی اننگز کھیلی۔

گذشتہ سال انہوں نے انگلینڈ میں کھیلی گئی سہ فریقی سیریز کے فائنل میں انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف 110 رنز بنائے تھے۔

اس سال جونیئر ایشیا کپ میں انہوں نے بھارت کے خلاف پول میچ میں سنچری اور فائنل میں 87 رنز اسکور کیے ۔

سمیع اسلم کہتے ہیں کہ پاکستانی انڈر19 ٹیم متوازن ہے اور تمام کھلاڑی عالمی مقابلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ صرف بھارت کے خلاف میچ ہی نہیں بلکہ پورا ٹورنامنٹ اہم ہے اور ہر میچ کو فائنل سمجھ کر کھیلیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی انڈر19 ٹیم نے حالیہ میچوں میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اسے صرف جونیئر ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی حالانکہ گروپ میچ میں اس نے بھارت کو ہرایا تھا۔

سمیع اسلم نے دو سال پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کی تھی۔ موجودہ سیزن میں انہوں نے اسٹیٹ بینک کے خلاف 191 اور پی آئی اے کے خلاف 109 رنز اسکور کیے ہیں۔

سمیع کا کہنا ہے کہ انڈر19 مصروفیات کے سبب وہ زیادہ فرسٹ کلاس میچ نہیں کھیل سکے لیکن جتنی بھی کرکٹ کھیلی ہے اس کا انہیں بہت فائدہ ہوا ہے اور انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔

سمیع اسلم فرسٹ کلاس کرکٹ میں نیشنل بینک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بینک کے اسپورٹس ڈویژن کے سربراہ سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم کے مطابق سمیع اسلم باصلاحیت بیٹسمین ہیں اور اگر انہوں نے اسی طرح کھیل پر اپنی توجہ مرکوز رکھی تو وہ بہت جلد پاکستانی ٹیم میں آ سکتے ہیں۔

خود سمیع اسلم کا کہنا ہے کہ وہ خود کو بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تیار سمجھتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ انڈر19 ورلڈ کپ اور پھر ڈومیسٹک کرکٹ کی پرفارمنس انہیں جلد پاکستانی ٹیم میں لے آئے گی۔

سمیع کا تعلق لاہور سے ہے جہاں انہوں نے اسکول میں کرکٹ شروع کی۔ ان کے والد بھی کرکٹ کھیلتے تھے لہٰذا انہوں نے سمیع کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ۔ وہ اس وقت ماڈل ٹاؤن کے علی گڑھ کلب کی طرف سے کھیلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل بینک میں کامران اکمل اور ڈاکٹر جمیل، جبکہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں علی ضیا منصوررانا اور اعجاز احمد نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔

اسی بارے میں