کارکردگی کے بجائے چہرہ دیکھ کر سلیکشن؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کامران اکمل کی پاکستانی ٹیم میں واپسی ایک بار پھر سب سے زیادہ حیرانی کا سبب بنی ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جب بھی سیلیکشن ہوتی ہے مجھے اپنے ایک صحافی دوست کی یہ بات یاد آجاتی ہے کہ اصل فیصلے کپتان اور کوچ کرتے ہیں اور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین حضرات بھی ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

رہے سیلیکٹرز تو وہ بیچارے ہومیوپیتھک کی گولیاں ہیں جو فائدہ نہیں پہنچاتیں تو نقصان دہ بھی نہیں ہیں۔

وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کی پاکستانی ٹیم میں واپسی ایک بار پھر سب سے زیادہ حیرانی کا سبب بنی ہے جنہیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

کامران اکمل کو سیلیکٹروں نے اس دلیل کے ساتھ ٹیم میں دوبارہ جگہ دی ہے کہ وہ اوپنر ہیں اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی نمبر پر خود کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ سلیکشن چہرہ دیکھ کر ضرور کیا گیا ہے لیکن کارکردگی ہرگز نہیں دیکھی گئی ہے۔

اس سیزن میں کامران اکمل نے فرسٹ کلاس میچوں میں 641 اور ون ڈے کپ میں 263 رنز سکور کیے لیکن جس فارمیٹ یعنی ٹی ٹوئنٹی میں ان کا سلیکشن ہوا ہے اس میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔

کامران اکمل نے ڈپارٹمنٹس کے ٹی ٹوئنٹی کپ کے تین میچوں میں صرف 22 رنز بنائے ہیں جس میں بہترین انفرادی سکور 17 رنز ہے۔ اسی طرح ریجن کے ٹی ٹوئنٹی کپ میں ان کے تین میچوں میں بنائے گئے رنز کی تعداد صرف 58 ہے جس میں بہترین انفرادی سکور صرف 30 رنز ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کارکردگی کامران اکمل کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شمولیت کو حق بجانب ثابت کرتی ہے؟

ماضی میں بھی کھلاڑیوں کو چار روزہ میچوں کی کارکردگی پر محدود اوورز کی ٹیم میں اور محدود اوورز کی کارکردگی پر ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا جاتا رہا ہے جس کے نتائج مایوس کن رہے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جس ٹی ٹوئنٹی کپ میں کامران اکمل صرف 22 رنز بناکر سب کی آنکھ کا تارہ بنے ہیں، اسی ٹورنامنٹ میں وکٹ کیپر سرفراز احمد نے کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ 250 سکور کیے جن میں تین نصف سنچریاں شامل تھیں۔ لیکن چونکہ وہ ٹی ٹوئنٹی کپتان کی گڈبک میں نہیں ہیں لہٰذا ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔

یہاں سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف کا ذکر بھی ہوجائے جو آج کل ایک نجی ٹی وی چینل پر باقاعدہ مبصر کا روپ دھار چکے ہیں۔ محمد یوسف نے کامران اکمل اور فواد عالم کی سلیکشن کو ان کے ڈیپارٹمنٹ نیشنل بینک سپورٹس ڈویژن کے سربراہ اور پی سی بی گورننگ بورڈ کے ممبر اقبال قاسم کی مہربانی قرار دیا ہے۔

فواد عالم کی کارکردگی تو سب کے سامنے ہے جس کے لیے کسی سفارش کی ضرورت نہ تھی، لیکن جہاں تک کامران اکمل کی بات ہے تو محمد یوسف کو اتنی جرات مندی ضرور دکھانی چاہیےتھی کہ وہ اقبال قاسم پر تنقید کی بجائے یہ کہہ سکتے تھے کہ اس سلیکشن میں کپتانوں کی خواہش اور مرضی کا عمل دخل زیادہ رہا ہے۔

یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ اقبال قاسم نے چیف سیلیکٹر کی حیثیت سے کامران اکمل کو ان کی خراب کارکردگی پر ٹیم سے ڈراپ کیا تھا اور عمر اکمل کو وکٹ کیپر کے طور پر آزمانے کا فیصلہ کیا تھا جس پر کامران اکمل بہت برہم ہوئے تھے۔

پاکستانی ٹیم کی سیلیکشن کی غیر مستقل مزاج پالیسی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کامران اکمل کو تیس ممکنہ کھلاڑیوں میں جس سلیکشن کمیٹی نے شامل کیا تھا اس میں مبینہ طور پر محمد الیاس بھی شامل تھے۔

محمد الیاس کا یہ دعویٰ ہے کہ ذ کا اشرف نےبحالی کے بعد انہیں چیف سیلیکٹر بناکر اس میٹنگ میں بٹھایا تھا جس میں ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کی منظوری دی گئی تھی۔ اسی میٹنگ میں عمر امین کا نام کاٹ کر یاسر شاہ کو ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں