دو ٹورنامنٹس کے لیے کوچ ہونا کوئی مسئلہ نہیں: معین خان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption معین خان نے کہا کہ کامران اکمل فیلڈر کی حیثیت سے نہیں بلکہ وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھیلیں گے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ معین خان کا کہنا ہے کہ صرف دو ٹورنامنٹس کے لیے انہیں کوچنگ کی ذمہ داری سونپنا کرکٹ بورڈ کا فیصلہ ہے جو ان کے لیے مسئلہ نہیں کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر کارکردگی اچھی ہوئی تو ان کےمعاہدے میں توسیع بھی ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ کوچ کا انتخاب کرنے والی کمیٹی نے کوچ کی مدت کم از کم ایک سال رکھنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے معین خان کو صرف دو ماہ کے لیے کوچ مقرر کیا ہے۔

ایشیا کپ کے تربیتی کیمپ کے موقع پر انٹرویو میں معین خان نے کہا کہ کوچ بننے کے بعد ان کی اولین ترجیح یہ ہوگی کہ کھلاڑیوں کے ذہنوں سے ناکامی کا خوف نکالا جائے جس کے لیے کوششیں انہوں نے اس وقت سے شروع کردی تھیں جب وہ مینیجر تھے۔

معین خان نے کہا کہ مینیجر کی حیثیت سے ٹیم کے ساتھ رہنے کا انہیں فائدہ ہوا ہے کیونکہ وہ کھلاڑیوں کے تکنیکی مسائل اور ان کی نفسیات اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور وہ کوشش کریں گے کہ ہر کھلاڑی سے اس کی صلاحیتوں کے مطابق کام لیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ پاکستانی ٹیم ہر میچ جیتے گی لیکن یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ٹیم میں فائٹنگ سپرٹ نظر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم جب اچھی بنی ہو تو اس میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو ضرور موقع دیا جاتا ہے جس کی تازہ ترین مثال فواد عالم ہیں۔

معین خان نے واضح کردیا کہ کامران اکمل فیلڈر کی حیثیت سے نہیں بلکہ وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھیلیں گے۔

انہوں نے کامران اکمل کے سلیکشن کے لیے کپتان اور سلیکٹروں کی تائید کی تھی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک ایسے بیٹسمین ہیں جنہیں اوپنر یا مڈل آرڈر بیٹسمین کی حیثیت سےکھلایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت وکٹ کیپر عمراکمل کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔

اسی بارے میں