بارہواں ایشیا کپ، پانچ ٹیمیں مدِمقابل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغانستان کی ٹیم پہلی مرتبہ ایشیا کپ کھیلے گی

بنگلہ دیش میں 2012 میں ایشیا کپ بنگلہ دیش کے کرکٹ کے کھلاڑیوں کے آنسوؤں پر ختم ہوا تھا جس کے فائنل کے آخری اوور میں پاکستان نے کامیابی حاصل کر کے یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ اب دو سال بعد یہ کپ بنگلہ دیش ہی میں شروع ہو رہا ہے۔

ایشیا کپ کی تیاریاں: تصاویر

ہر دو سال بعد کرکٹ کھیلنے والے ایشیائی ملکوں کی ٹیموں کے درمیان ایک روزہ میچوں کے یہ مقابلے مسلسل دوسری مرتبہ بنگلہ دیش میں منعقد کیے جا رہے ہیں اور ان کا آغاز پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ سے ہو رہا ہے۔

اس مرتبہ پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے علاوہ افغانستان کی ٹیم بھی ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہی ہے۔

ٹورنامنٹ سے قبل ایشیا کپ کی ٹرافی کی افتتاحی تقریب میں پاکستان کے کپتان مصباح الحق، انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی، سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز، بنگلہ دیش کے کپتان مشفق الرحمان کے علاوہ افغانستان کے کپتان محمد نبی بھی شریک تھے۔

اس طرح کی تقریبات ہر بڑے عالمی ٹورنامنٹ کا ایک اہم حصہ ہوتی ہیں لیکن یہ تقریب افغانستان کے کپتان کے لیے ایک بڑا موقع تھا کیونکہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم پہلی مرتبہ کسی بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغان ٹیم پوری تیاری میں ہے

دو سال قبل کھیلے گئے ٹورنامنٹ کی بڑی بات بنگلہ دیش کی ٹیم کا بھارت کو شکست دے کر فائنل میں پہنچنا تھا۔ اس میچ میں کامیابی کے بعد بنگلہ دیش کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی توقعات اور حوصلہ بڑھ گئے تھے اور فائنل میں انھوں نے پاکستان کا بڑا جم کا مقابلہ کیا لیکن میچ کے آخری اوور میں پاکستان کے بالر اعزاز چیمہ نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

پہلی مرتبہ کسی بڑے ٹورنامنٹ میں کامیابی کے اتنے قریب پہنچ کر ہارنے کے صدمے سے بنگلہ دیشی کے کھلاڑی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کے کئی کھلاڑی کپتان مشفع الرحمان سمیت میدان میں پھوٹ پھوٹ کر روتے نظر آئے۔

ایشیا کپ 2014 کے شیڈول کے مطابق ہر ٹیم چار میچ کھیلے گی اور میچ جیتنے کی صورت میں جیتنے والی ٹیم کو چار پوائنٹس ملیں گے اور میچ برابر اور ٹائی ہونے کی صورت دونوں ٹیموں کو دو دو پوائنٹس دیے جائیں گے۔

ابتدائی راؤنڈ کے بعد سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والی دو ٹیموں کے درمیان فائنل مقابلہ ہوگا۔ ابتدائی میچ فتح اللہ میں کھیلے جائیں گے جبکہ آخری چھ میچ میر پور میں منعقد ہوں گے۔

افغانستان ٹیم کے کپتان غلام نبی سب سے ناتجربہ کار کپتان ہوں گے۔ اس کے علاوہ کپتانی کے اعتبار سے بھارتی ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی بھی زیادہ تجربہ کار نہیں ہیں لیکن ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ بنگلہ دیش میں کھیلے گئے میچوں میں وہ بھارت کی طرف سے اب تک کامیاب ترین بلے باز رہے ہیں اور ان کی اوسط 122 رن فی میچ ہے۔

انھوں نے بنگلہ دیش میں مجموعی طور پر 732 رن بنائے ہیں جن میں چار سنچریاں اور تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وراٹ کوہلی کپتان کی حیثیت سے آٹھ ایک روزہ میچوں میں بھارت کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں ان کی اوسط 66.40 رہی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں بھارت کی طرف سے دھونی، یوراج سنگھ اور شریش رائنا نہیں کھیل رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مشفق الرحمان بنگلہ دیشی ٹیم کی کپتانی کر رہے ہیں

پاکستان کے کپتان مصباح الحق کپتانی کے تجربے کے اعتبار سے سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے اپنی گذشتہ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں سے چار میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی پاکستان ٹیم کا ریکارڈ بہت شاندار رہا ہے۔ مصباح کی رن بنانے کی اوسط ایک روزہ میچوں میں 53.63 فیصد رہی ہے اور ان کی 35 میں 22 نصف سنچریاں پاکستان کے لیے فتح کی ضامن بنی ہیں۔

دوسال قبل بنگلہ دیش میں مصباح الحق پاکستانی ٹیم نے کامیابی حاصل کی تھی اور یہ بھی محض اتفاق ہے کہ 14 سال قبل جب پاکستان نے پہلی بار ایشیا کپ بنگلہ دیش ہی میں جیتا تھا تو اس ٹیم کے کپتان معین خان تھے جو اب ٹیم کے کوچ ہیں۔

ایک جانب معین خان کی یہ خواہش ہے کہ وہ ٹورنامنٹ جو انہوں نے بحیثیت کپتان جیتا اب کوچ کی حیثیت سے بھی جیتیں، تو دوسری جانب مصباح الحق اعزاز کے دفاع کے آرزو مند ہیں لیکن دونوں کو اچھی طرح یہ بات معلوم ہے کہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ان کے کھلاڑیوں کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا کیونکہ ان کے مقابلے پر موجود بھارت سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ہم پلہ ہیں۔

پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں گذشتہ سال کے اواخر میں پانچ میچوں کی ون ڈے سیریز کھیل چکی ہیں جو پاکستان نے تین دو سے جیتی تھی اور اس کے تین میچ بڑے دلچسپ رہے تھے۔

سری لنکا کو ان فٹ تلکارتنے دلشان کی خدمات حاصل نہیں لیکن مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کا تجربہ اسے ضرور میسر ہے۔ کوشل پریرا اور تشارا پریرا میچ کا نقشہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ چندی مل اور اینجیلو میتھیوز بھی اپنی ٹیم کی امیدوں کا مرکز ہیں۔

سری لنکا کو رنگانا ہیراتھ اور نوآن کلاسیکرا کی کمی شدت سے محسوس ہوگی۔

پاکستانی ٹیم کا بولنگ کا شعبہ عمرگل، جنید خان، بلاول بھٹی، سعید اجمل، شاہد آفریدی اور محمد حفیظ کی موجودگی میں خاصا مضبوط ہے جبکہ بیٹنگ لائن شرجیل خان، محمد حفیظ، احمد شہزاد، صہیب مقصود، عمراکمل اور مصباح الحق کے ہوتے ہوئے بڑا سکور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

محمد حفیظ نے سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں 448 رنز بنائے تھے۔

یہ بارھواں ایشیا کپ ہے۔ بھارت نے سب سے زیادہ پانچ مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتا ہے۔ سری لنکا نے چار مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان دو بار فاتح رہا ہے۔

اسی بارے میں