ہاکی سٹک کی بجائے ہاتھ میں مائیک

Image caption انڈین ہاکی لیگ نے ہاکی کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے: سلمان اکبر

پاکستانی ہاکی ٹیم کے گول کیپر سلمان اکبر نے اب ہاکی سٹک کے بجائے اب ہاتھ میں مائیک تھام لیا ہے۔

آئی پی ایل کی طرح انڈین ہاکی لیگ کے دروازے بھی پاکستانی کھلاڑیوں پر بند رہے لیکن سلمان اکبر نے ٹی وی کمنٹری ٹیم میں شامل ہو کر اپنے نئے کریئر کی ابتدا کر دی ہے۔

سلمان اکبر نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ایک انگریزی اخبار کے لیے پہلے ہی کالم لکھ رہے ہیں اسی دوران سٹار سپورٹس نے ان سے رابطہ کیا جس پر انھوں نے سوچا کہ یہ تجربہ بھی کر لیا جائے۔ انہوں نے خوشی ظاہر کی کہ اتنے بڑے ایونٹ کے لیے ان کاانتخاب ہوا اور انھوں نے کمنٹری باکس میں ایک ایک لمحے سے لطف اٹھایا۔

سلمان اکبر کہتے ہیں کہ کمنٹری سے قبل ایک ور کشاپ ہوئی تھی جس میں انھیں اس شعبے کی بنیادی باتیں سکھائی گئیں۔

انھوں نے کہا: ’مجھے کھیلتے ہوئے کبھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ یہ کھیل کتنا تیز ہے لیکن اب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ آسان نہیں لیکن میں محنت کرکے اس میں بہتری لاسکتا ہیں جیسا کہ میں اپنی گول کیپنگ میں کرتا تھا۔‘

سلمان اکبر نے کہا کہ انڈین ہاکی لیگ نے ہاکی کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور یہ کھلاڑیوں کے لیے یہ بہت بڑا پلیٹ فارم ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو اس سے بہت فائدہ ہوا ہے جنھیں ورلڈ کلاس کھلاڑیوں اور کوچوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ اس لیگ کی ٹی وی کوریج جس عمدگی سے کی گئی وہ بھی قابلِ تعریف ہے۔

سلمان اکبر کو اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اس لیگ میں کھیلنے کا موقع نہ مل سکا: ’کھیل کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا یہ بہت اچھا موقع ہوسکتا تھا۔ بھارت میں موجودگی کے دوران ان سے ہر کسی نے یہی بات کہی کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اس لیگ میں ہونا چاہیے تھا، اس سے ہاکی کا نقصان ہوا ہے۔‘

سلمان اکبر نے کہا کہ پاکستانی ہاکی اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک یہاں ڈومیسٹک ہاکی کا ڈھانچہ مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاتا۔

اسی بارے میں