اوسان خطا ہونے کے بعد جیت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمر اکمل اپنی سنچری کی بدولت مین آف دی میچ قرار پائے

پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنی تاریخ کی تیسری بدترین شکست کے خطرے سے بچ گئی لیکن افغانستان نے ایک مرتبہ تو اس کے اوسان خطا کر دیے۔

117 رنز پر چھٹی وکٹ گرنے پر پاکستانی ڈریسنگ روم میں سکوت طاری ہوچکا تھا اور اس وقت ذہنوں میں صرف اور صرف ماضی کی وہ دو بڑی ناکامیاں یاد آنے لگی تھیں جو پاکستانی ٹیم کو بنگلہ دیش اور آئرلینڈ کے ہاتھوں ہوئی تھیں۔

عمراکمل کی سنچری ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بنی جس کے بعد ایک مضبوط بولنگ اٹیک کے سامنے افغان بلے بازوں کا کم تجربہ ان کی تمام تر کوششوں پر غالب آگیا۔

پاکستان کے 248 رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں افغانستان کی ٹیم 176 رنز بناسکی یوں اسے 72 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ افغانستان کا آئی سی سی کے کسی مکمل رکن کے خلاف تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل تھا۔ اس نے پچھلے دونوں میچ دوسال قبل شارجہ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے خلاف کھیلے تھے جن میں اسے سات وکٹ اور 66 رنز سے شکست ہوئی تھی۔

محمد نبی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ دی اور اپنے بولرز کے ذریعے ابتدا ہی سے دباؤ قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ پہلے 10 اوورز میں صرف 39 رنز بنے تھے اور 13 ویں اوور میں شرجیل خان ایک اور مایوس کن کارکردگی دکھا کر لیفٹ آرم سپنر حمزہ ہوتک کی گیند پر ڈیپ مڈوکٹ پر کیچ ہوگئے۔ محمد حفیظ میرواعظ اشرف کی گیند پر کور میں کیچ ہوئے تو سکور 78 رنز تھا۔

پاکستانی ٹیم کے پیروں تلے زمین اس وقت سرکی جب لگاتار گیندوں پر احمد شہزاد اور کپتان مصباح الحق کی وکٹیں گرگئیں۔ احمد شہزاد نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد لیگ سپنر سمیع اللہ شنواری کی گیند پر بولڈ ہوئےاور مصباح الحق کو بغیر کوئی گیند کھیلے صہیب مقصود کی غلطی اور خود غرضی کی بھاری قیمت رن آؤٹ کی شکل میں چکانی پڑی۔

صہیب مقصود خود بھی کچھ نہ کرپائے اور 13 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے اور جب 374 ون ڈے میچوں کا وسیع تجربہ رکھنے والے شاہد آفریدی بھی غیرذمہ دارانہ انداز میں بولڈ ہوئے تو افغانستان کے کھلاڑی جیسے ہوا میں اڑ رہے تھے۔

عمراکمل نے انور علی کے ساتھ 60 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی۔ انور علی جو بلاول بھٹی کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے 21 رنز کا اہم حصہ دے کر آؤٹ ہوئے۔ عمرگل کا ایک چھکا اور ایک چوکا بھی اس وقت بڑا قیمتی معلوم ہوا لیکن یہ عمراکمل کی شاندار بیٹنگ تھی جس نے پاکستانی ٹیم کی نئیا پار لگادی ۔

اننگز کے آخری اوور میں عمراکمل کو سنچری مکمل کرنے کے لیے 15 رنز درکار تھے جس میں انھوں نے دولت زدران سے 17 رنز بٹورے اور 89 اننگز کے طویل انتظار کے بعد اپنی دوسری ون ڈے سنچری سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے مکمل کرلی۔

افغانستان کی اننگز میں اوپنرز محمد شہزاد اور انورعلی زدران نے صرف پانچ اوورز میں 32 رنز سکور کر کے اپنے خطرناک عزائم ظاہر کردیے تھے لیکن وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹیں اور بڑھتا ہوا رن ریٹ افغان ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کرتاچلاگیا۔

پاکستانی سپن ٹرائیکا نے موثر بولنگ کرتے ہوئے رنز کی رفتار بھی روکی اور چھ وکٹیں بھی حاصل کیں۔

اسی بارے میں