ایشیا کپ:بھارت اور سری لنکا میں سخت مقابلے کی توقع

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption آخری مرتبہ بھارت اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کا سامنا ویسٹ انڈیز میں کھیلی گئی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں ہوا تھا

بنگلہ دیش میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں جمعہ کو بھارت اور سری لنکا مدِمقابل ہیں۔

یہ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ میں اپنے پہلے میچ میں فاتح رہی تھیں۔

بھارت نے میزبان بنگلہ دیش کو چھ وکٹ سے شکست دی تھی تو سری لنکا نے دفاعی چیمپیئن پاکستان کے خلاف 12 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔

دونوں ٹیموں کی ایک روزہ کرکٹ میں حالیہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو جہاں بھارتی کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیش کو شکست دے کر اس سال کی پہلی کامیابی حاصل کی وہیں سری لنکا گزشتہ 16 مقابلوں میں سے 11 جیت چکا ہے۔

تاہم بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلے گئے گزشتہ کچھ مقابلوں میں بھارت کا پلہ بھاری رہا ہے۔

آخری مرتبہ بھارت اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کا سامنا ویسٹ انڈیز میں کھیلی گئی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں ہوا تھا جہاں فائنل میں بھارت نے سری لنکا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔

ایشیا کپ میں دیکھا جائے تو اپنے پہلے میچ میں بنگلہ دیش جیسی ٹیم کے خلاف بھارتی بولنگ ایک بار پھر کمزور دکھائی دی۔

تیز بولرز میں صرف محمد شامی کی کارکردگی میں تسلسل دکھائی دیا اور بھونیشور کمار اور ورن یرون وکٹ لینے سے محروم ہی رہے۔

سپن بولنگ کے شعبے میں لیفٹ آرم سپنر رویندر جدیجہ كفايتي تو ثابت ہوئے لیکن وکٹ انھیں بھی نہیں ملی۔ ایشون بھی دس اوورز میں 50 رن دے کر صرف ایک وکٹ ہی لے سکے۔

دوسری طرف سری لنکن بولرز نے پاکستان سے اس وقت میچ کا کنٹرول چھین لیا جب وہ ایک یقینی جیت کی طرف بڑھ رہا تھا اور لستھ ملنگا نے اپنے دوسرے دور میں نپي تلی ياركرز کی مدد سے پانچ پاکستانی وکٹیں لے کر سری لنکا کو میچ جتوا دیا۔

بلے بازی میں بھی بھارتی ٹیم کے لیے باعثِ تشویش چیز اوپنرز شیکھر دھون اور روہت شرما کا آؤٹ آف فارم ہونا ہے۔

تاہم وراٹ کوہلی اور اجنکیا رہانے کی تسلسل سے عمدہ کارکردگی نے ان مشکلات کو کافی حد تک کم کیا ہے لیکن ہر میچ میں وراٹ پر انحصار کرنا بھارت کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔

وراٹ ابھی تک 131 ون ڈے میچوں میں 19 سنچریاں بنا چکے ہیں جن میں سے 12 سنچریاں ان میچوں میں تھیں جب بھارت ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے میچ جیتا۔

دوسری طرف سری لنکا کے پاس وکٹ کیپر بلے باز کمار سنگاکارا، تھریمانے، مہیلا جے وردھنے اور کپتان اینجلو میتھیوز جیسے ’ان فارم‘ بلے باز موجود ہیں جو بھارت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

ایسے میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہمیشہ کی طرح ایک دلچسپ میچ کی توقع تو کی جا سکتی ہے لیکن پلڑا سری لنکا کا بھاری رہنے کی امید ہے جس اس کی ایک وجہ سری لنکن بولرز کا زیادہ تجربہ کار ہونا بھی ہے۔

اسی بارے میں