فیفا نے میچ کے دوران کھلاڑیوں کو سر ڈھانپنے کی اجازت دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 2011 میں ایران کی خواتین ٹیم نے ایک میچ کھیلنے سے اس وقت انکار کر دیا تھا جب انہیں ’ہیڈ سکارف‘ پہننے کی اجازت نہیں دی گئی

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے کھلاڑیوں کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ میچوں کے دوران اپنے مذہبی عقائد کے مطابق سر ڈھانپ سکیں۔

یہ فیصلہ زیورخ میں انٹرنیشنل فٹبال اسوسی ایشن بورڈ کے ایک اجلاس میں کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق مرد اور خواتین دونوں کھلاڑیوں پر ہوگا۔

2012 میں فیفا کی جانب سے میچ کے دوران فٹبال کھلاڑیوں کے سر پر ڈھانپنے والی اشیا پہننے کی پابندی لگا دی گئی تھی تاہم اس حوالے سے دو سالہ آزمائشی مہم کا آغاز کیا گیا تھا جو کہ اب کامیاب ہو گئی ہے۔

فیفا کے جنرل سکریٹری جروم ویلک نے بتایا کہ ’فیصلہ کیا گیا ہے کہ خواتین اور مرد کھلاڑی میچ کے دوران اپنے سر ڈھانپ سکیں گے۔ اس فیصلے کے تحت سر ڈھانپنے کے بنیادی لباس کی اجازت ہوگی۔ اس کا رنگ ٹیم کے لباس کے رنگ والا ہونا ضروری ہے۔‘

2011 میں ایران کی خواتین ٹیم نے اردن کے خلاف اولمپک مقابلوں کے لیے ایک کوالیفائنگ میچ کھیلنے سے اس وقت انکار کر دیا تھا جب انہیں ’ہیڈ سکارف‘ پہننے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کینیڈا میں سکھ برادری کی جانب سے بھی روایتی سکھ پگ پہننے کی اجازت کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

ماضی میں فیفا کا کہنا تھا کہ میچ کے دوران ’ہیڈ کوور‘ پہننے سے سر یا گردن کے زخمی ہونے کے زیادہ امکان ہوتے ہیں۔

تاہم ایشین فٹبال فیڈریشن کی درخواست پر فیفا نے اس حوالے سے ایک آزمائشی مہم شروع کی تھی۔

انٹرنیشنل فٹبال اسوسی ایشن بورڈ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کلب کی قمیض کے نیچے پہنی گئی شرٹ پر پیغامات لکھنے والے کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ان نئے قوانین کا اطلاق یکم جون سے ہوگا۔

اسی بارے میں