انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹروں کے لیے ’بالوں کا ٹیسٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انگلینڈ اور ویلز کے ڈومیسٹک کرکٹ میں 400 سے زائد کھلاڑی شامل ہیں

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں تمام پروفیشنل کرکٹروں کے بدن میں منشیات کا سراغ لگانے کے لیے ان کے ’بالوں کا ٹیسٹ‘ کیا گیا ہے۔

اس ٹیسٹ کی وجہ سے انگلینڈ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں منشیات کے لیے کیے جانے والے انواع و اقسام کے ٹیسٹوں میں مزید توسیع ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ انگلینڈ اور ویلز کی ڈومیسٹک کرکٹ میں 400 سے زائد کھلاڑی کھیلتے ہیں۔

بالوں کے نمونوں کے تجزیے سے تین ماہ قبل تک استعمال کی گئی منشیات کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ کاؤنٹی سروے سے تعلق رکھنے والے بلے باز ٹام مینارڈ کی سنہ 2012 میں ریلوے لائن پر ہلاکت کے بعد ان ٹیسٹوں کی استدعا کی گئی تھی۔ انگلینڈ کے 23 سالہ بلے باز مینارڈ نشے کی حالت میں ٹیوب ٹرین سے ٹکرا کر ہلاک ہو گئے تھے۔

فروری سنہ 2013 میں انگلینڈ کے کرکٹ کے سربراہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ منشیات سے متعلق ٹیسٹ لینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

دی پروفیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے 18 فرسٹ کلاس کاؤنٹیز کے لیے اس منصوبے کی ترغیب دی تھی۔

اس منصوبے کا مقصد پروفیشنل کھلاڑیوں میں اس بات کا پتہ لگانا تھا کہ وہ کوکین اور بھنگ کے ساتھ ساتھ دیگر منشیات کا کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔