انگلینڈ:بال ٹیمپرنگ کےشبےمیں گیند تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اینٹیگا میں کھیلے جانے والے سیریز کے آخری میچ میں انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو 25 رنز سے شکست دی تھی

انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں 25 رنز سے ہرا کر کامیابی تو حاصل کر لی لیکن اس کی جیت کا مزا اس وقت کِرکرا ہو گیا جب امپائروں نے ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کے دوران یہ کہہ کر گیند تبدیل کر دی کہ اس کی حالت ’غیر قدرتی طریقے سے خراب ہو گئی ہے‘ یا دوسرے الفاظ میں بال ٹیمپرنگ کی گئی ہے۔

تاہم انگلینڈ پر پانچ رنز کی پینالٹی عائد نہیں کی گئی۔

ادھر انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان سٹوارٹ براڈ نے کہا ہے کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے جانے والے تیسرے ایک روزہ میچ کے دوران گیند تبدیل کرنے کے فیصلے پر دنگ رہ گئے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اینٹیگا میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران امپائروں نے یہ کہہ کر گیند تبدیل کر دی کہ اس کی شکل بگڑ گئی ہے۔

سٹوارٹ براڈ کے مطابق ’مجھے گیند تبدیل کرنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی اور میں ایمپائروں کے اس فیصلے پر دنگ رہ گیا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایک روزہ سیریز کے میچوں کے دوران گیند کھردری ہو رہی تھی اور اس کا تھوڑا سا چمڑا باہر نکل رہا تھا۔‘

خیال رہے کہ انگلینڈ کے سابق کپتان باب ولس نے انگلش ٹیم پر سری لنکا کے خلاف سنہ 2013 میں چیمپئینز ٹرافی کے ایک میچ کےدوران بال ٹیمپرنگ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس حوالے سے براڈ نے کہا کہ انھیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ ایمپائر اسی طرح کا الزام عائد کریں گے تاہم وہ ان کی جانب سے کھیل میں مداخلت کرنے کی وجہ سے کنفیوز ہو گئے تھے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا۔

انگلینڈ کے 27 سالہ آل راؤنڈر کے مطابق ایسا نہیں تھا کہ گیند ریورس سوئنگ کر رہی ہو۔

اس تنازعے سے پہلے انگلینڈ کے بلے باز جو روٹ نے جہاں اپنے کریئر کی پہلی بین الاقوامی کی سنچری بنائی، وہیں جو بٹلر ایک رن کی کمی سے سنچری نہ بنا سکے اور آخری اوور میں 99 کے سکور پر آؤٹ ہوگئے۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان 175 رنز کی شراکت ہوئی۔

انگلینڈ کی ٹیم رواں ماہ بنگہ دیش میں منعقد ہونے والی ٹی ٹوئنٹی کے عالمی کپ سے پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف باربیڈوس میں تین ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گی۔

اسی بارے میں