’مائیکل شوماکر کی حالت بہتر نہیں ہو رہی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سکیئنگ کے دوران پھسلنے کی وجہ سے شوماکر کا سر چٹان سے ٹکرایا تھا جس سے ان کا ہیلمٹ ٹوٹ گیا تھا

ریسنگ کی دنیا کے معروف ڈرائیور مائیکل شوماکر کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں کومے سے باہر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ان کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔

فارمولا ون کے سات بار چیمپیئن رہنے والے جرمنی کے ریسر مائیکل شوماکر 29 دسمبر کو فرانس میں سکیئنگ کرتے ہوئے ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔

مائیکل شوماکر کو گذشتہ برس 29 دسمبر کو فرینچ ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں واقع میربل کے الپائن ریزارٹ میں سکیئنگ کے دوران سر پر چوٹ آئی تھی اور انھیں گرینوبل ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کوما کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔

سکیئنگ کے دوران پھسلنے کی وجہ سے شوماکر کا سر چٹان سے ٹکرایا تھا جس سے ان کا ہیلمٹ ٹوٹ گیا تھا۔

شوماکر کے دماغ سے خون کے لوتھڑے (clot) نکالنے کے لیے ڈاکٹروں نے انھیں گرینوبل ہسپتال میں آپریشن کے بعد کوما کی حالت میں رکھا تھا اور اب ڈاکٹر شوماکر کے دماغ کی سوزش کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شوماکر نے سنہ 1991 میں فارمولا ون ریسنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور تین برس بعد پہلی گراں پری ریس جیتی تھی۔

ریسنگ ٹریک پر شوماکر کو جارحانہ ڈرائیور کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہ 2000 سے 2004 تک پانچ سال لگاتار فارمولا ون ریسنگ میں سال کے بہترین ڈرائیور ثابت ہوئے تھے۔

شوماکر نے سنہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا لیکن 2010 میں وہ دوبارہ دنیا کے تیز ترین کھیل میں واپس آئے لیکن جیت ان کے مقدر میں نہیں تھی۔

وہ سنہ 2012 میں حتمی طور پر ریسنگ سے ریٹائر ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں