پاکستان لنکا ڈھانے میں ناکام، ایشیا کپ سری لنکا کا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تھریمانے نے شاندار سنچری بنائی اور اس ٹورنامنٹ میں آؤٹ آف فارم رہنے والے جیاوردھنے بھی فائنل میں نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے

ایشیا کپ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔

سری لنکا نے شائقین سے کھچا کھچ بھرے شیر بنگلہ سٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کرلی۔ اس طرح اس نے یہ ٹورنامنٹ سب سے زیادہ پانچ مرتبہ جیتنے کا بھارتی ریکارڈ بھی برابر کردیا۔

سری لنکا اس ٹورنامنٹ میں تمام کے تمام پانچوں میچ جیتنے والی ٹیم بھی بنی ہے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

ایشیا کپ کے فائنل کی تصاویر

پاکستانی ٹیم نے ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی ناکامی کے سبب ایک بڑے سکور کا موقع گنوایا۔ یہ فواد عالم کی پہلی ون ڈے سنچری تھی جس کے نتیجے میں وہ پانچ وکٹوں پر دو سو ساٹھ رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکی۔

گرنے والی یہ پانچوں وکٹیں لستھ مالنگا نے حاصل کیں۔

جب دو سو اکسٹھ رنز کے دفاع کا وقت آیا تو پاکستان کی غیرموثر بولنگ خراب فیلڈنگ اور وکٹ کیپنگ نے سری لنکا کا کام آسان کردیا۔

تھری مانے نے چھتیس کے سکور پر شاہد آفریدی کی گیند پر عمراکمل کے ہاتھوں کیچ گرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دوسری ون ڈے سنچری سکور کرڈالی۔

مہیلا جے وردھنے جنہوں نے فائنل سے قبل چار اننگز میں صرف چھتیس رنز بنائے تھے صحیح وقت پر فارم میں آئے اور پچھتر رنز بناگئے۔

انہیں بھی ایک موقع ملا جب محمد حفیظ عمرگل کی گیند پر ان کا کیچ لینے میں ناکام رہے۔

جے وردھنے اور تھری مانے نے ایک سو چھپن رنز کی شراکت ایسے وقت قائم کی جب سعید اجمل نے لگاتارگیندوں پر کوشل پریرا اور سنگاکارا کو آؤٹ کرکے میچ میں دلچسپی پیدا کردی تھی لیکن تینوں فاسٹ بولرز کا مہنگا ہونا کپتان مصباح الحق کی مایوسی میں اضافہ کرگیا۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس کی اننگز اسی بھیانک انداز میں شروع ہوئی جیسے ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں سری لنکا ہی کے خلاف ختم ہوئی تھی۔اُس میچ میں لستھ مالنگا نے آخری تین اوورز میں صرف گیارہ رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کرڈالی تھیں۔اس بار انہوں نے اپنے پہلے تین اوورز میں محض بارہ رنز کے عوض تین بیٹسمین پویلین بھیج دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فواد عالم نے دباؤ کے باوجود عمدہ بلے بازی کی اور سنچری مکمل کی

شرجیل خان فٹ ہوکر ٹیم میں واپس تو آگئے لیکن جتنی تیزی سے انہوں نے دو چوکے لگائے اتنی ہی تیزی سے وہ پویلین لوٹ گئے۔ مالنگا کی گیند پر مڈآن پر تشارا پریرا نے ان کا کیچ لیا۔

احمد شہزاد نے اگلے اوور میں مالنگا کو قدموں کا استعمال کیے بغیر کھیلنے کی کوشش کی اور وکٹ کیپر سنگاکارا کو کیچ دے گئے۔

محمد حفیظ کے پیر بھی اپنی جگہ پر جمے رہے اور انہوں نے بھی مالنگا کی گیند پر سنگاکارا کو آسان کیچ تھمادیا۔

پانچویں اوور میں صرف اٹھارہ رنز پر تین وکٹیں گرجانے کے بعد کپتان مصباح الحق کو ایک بار پھر اپنوں کے لگائے گئے زخم بھرنے پڑگئے ۔

مصباح الحق کو اس بار بھی فواد عالم سے بہت حوصلہ ملا۔ دونوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں ایک سو بائیس رنز کا اضافہ کرڈالا۔

مصباح الحق دو چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے پنسٹھ رنز بناکر مالنگا کی اننگز میں چوتھی وکٹ بنے تو پاکستان کا سکور سنتیس اوورز میں ایک سو چالیس تھا

فواد عالم اور عمراکمل نے رن ریٹ کسی بھی اوور میں نیچے گرنے نہیں دیا جواڑتالیسویں اوور میں رن ریٹ پہلی بار پانچ تک پہنچا۔

فواد عالم نے اکتالیس اور بانوے کے سکور پر ملنے والے دو مواقعوں کا فائدہ اٹھاتےہوئے تشارا پریرا کو چھکا لگاکر چھ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے ایک سو چھبیس گیندوں پر سنچری مکمل کی۔

یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں اوپنر کے علاوہ کسی بھی پاکستانی لیفٹ ہینڈڈ بیٹسمین کی پہلی سنچری بھی ہے۔

عمراکمل نے مالنگا کے ایک ہی اوور میں تین چوکے لگائے اور پھر لکمل کے ایک اوور میں دو بار گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھائی۔ وہ سات چوکوں کی مدد سے انسٹھ رنز بناکر لستھ مالنگا کے آخری اوور میں پریانجن کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

عمراکمل اور فواد عالم کی شراکت میں ایک سو پندرہ رنز بنے۔

شاہد آفریدی کریز پر آئے تو دو گیندیں باقی تھیں لیکن انہیں ایک بھی گیند کھیلنے کو نہ مل سکی اور وہ بغیر کوئی گیند کھیلے سنچری میکر فواد عالم کے ساتھ ناٹ آؤٹ واپس آئے۔

پاکستان نے آخری دس اوورز میں ایک سو ایک رنز کا اضافہ کیا جن میں سے اننچاس رنز صرف چار اوورز میں سکور ہوئے۔

اسی بارے میں