فائنل ہارنے پر افسوس ہے: مصباح الحق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم نے ایشیا کپ جیتنے کی بھر پور کوشش کی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ انھیں ایشیا کپ کا فائنل ہارنے پر افسوس ہے:’بدقسمتی کی بات ہے کہ اہم میچ میں کیچ ڈراپ ہوئے۔‘

پاکستان کی سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق مصباح الحق نے یہ بات بنگلہ دیش میں ایشیا کپ میں شرکت کے بعد پیر کو وطن واپس آمد پر لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان نے بتایا کہ شاہدی آفریدی کا فارم میں آنا خوش آئند ہے اور ٹی 20 کپ میں پاکستان کے جیتنے کے امکانات روشن ہیں۔

ایشیا کپ کے فائنل کی تصاویر

انھوں نے ہفتے کو ایشیا کپ کے فائنل میں ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فائنل میں جس کی طرح کی کاردگردگی پیش کی جانی چاہیے تھی وہ پیش نہ کر سکے۔

انھوں نے کہا کہ ٹیم نے ایشیا کپ جیتنے کی بھر پور کوشش کی اور کھلاڑیوں نے اچھا کھیل پیش کیا۔

یاد رہے کہ سینچر کو بنگلہ دیش کے شیر بنگلہ سٹیڈیم میں کھیلے گئے ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا نے پاکستان کے خلاف پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اس نے یہ ٹورنامنٹ سب سے زیادہ پانچ مرتبہ جیتنے کا بھارتی ریکارڈ بھی برابر کر دیا تھا۔

سری لنکا ایشیا کپ میں تمام کے تمام پانچوں میچ جیتنے والی ٹیم کے طور پر بھی سامنے آئے تھی۔

پاکستانی ٹیم نے ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی ناکامی کے سبب ایک بڑے سکور کا موقع گنوایا تھا۔ فواد عالم کی پہلی ون ڈے سنچری تھی جس کے نتیجے میں وہ پانچ وکٹوں پر دو سو ساٹھ رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکی۔

گرنے والی یہ پانچوں وکٹیں لستھ مالنگا نے حاصل کیں تھیں۔

جب دو سو اکسٹھ رنز کے دفاع کا وقت آیا تو پاکستان کی غیرموثر بولنگ خراب فیلڈنگ اور وکٹ کیپنگ نے سری لنکا کا کام آسان کردیا۔

تھری مانے نے چھتیس کے سکور پر شاہد آفریدی کی گیند پر عمراکمل کے ہاتھوں کیچ گرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دوسری ون ڈے سنچری سکور کرڈالی تھی۔

مہیلا جے وردھنے جنہوں نے فائنل سے قبل چار اننگز میں صرف چھتیس رنز بنائے تھے صحیح وقت پر فارم میں آئے اور پچھتر رنز بنائے۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس کی اننگز اسی بھیانک انداز میں شروع ہوئی جیسے ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں سری لنکا ہی کے خلاف ختم ہوئی تھی۔اُس میچ میں لستھ مالنگا نے آخری تین اوورز میں صرف گیارہ رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کرڈالی تھیں۔اس بار انہوں نے اپنے پہلے تین اوورز میں محض بارہ رنز کے عوض تین بیٹسمین پویلین بھیج دیے۔

اسی بارے میں