’افغانستان پھر دنیا کو حیران کرنے کے لیے تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹی ٹوئنٹی افغانستان کی ٹیم کا پسندیدہ فارمیٹ ہے:کبیر خان

افغانستان کی کرکٹ ٹیم ایشیا کپ کا چونکا دینے والا نتیجہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں دہرانے کے لیے پھر تیار بیٹھی ہے۔

اس بار بھی اس کا ہدف میزبان بنگلہ دیشی ٹیم ہے جسے ہرانے کی صورت میں اس کے عالمی مقابلے کے سپر 10 مرحلے میں پہنچنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

افغانستان کو حالیہ ایشیا کپ میں پہلی بار حصہ لینے کا موقع ملا تھا جس میں اس نے میزبان بنگلہ دیش کو 32 رنز سے شکست دے کر سب کو حیران کر دیا تھا اور اب 16 مارچ کو آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے افتتاحی میچ میں دونوں ٹیمیں ایک بار پھر مدمقابل ہونے والی ہیں۔

افغانستان کی ٹیم کے کوچ کبیر خان کو یقین ہے کہ اگر کھلاڑی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کامیاب ہوگئے تو وہ ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلیں گے۔

کبیرخان نے چٹاگانگ سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کے خلاف جیت کو ماہرین اور ناقدین نے بے حد سراہا ہے، ٹیم کا مورال بہت بلند ہوا ہے اور ان میں یقین پیدا ہوگیا ہے کہ وہ دوبارہ بھی بنگلہ دیش کو ہرا سکتے ہیں۔

کبیرخان جو پاکستان کی طرف سے چار ٹیسٹ اور دس ون ڈے کھیل چکے ہیں، کہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی کپتان مشفق الرحیم نے اپنے انٹرویومیں افغانستان سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کی بات کی ہے:’ظاہر ہے اس کے لیے میزبان ٹیم ضرورت سے زیادہ کوشش کرے گی اور یہ بات افغان ٹیم کے حق میں جاتی ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم کے غصے اور بدلہ لینے کی سوچ سے فائدہ اٹھائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی افغانستان کی ٹیم کا پسندیدہ فارمیٹ ہے لیکن انہیں اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ بنگلہ دیش کو میزبان ہونے کے ناطے ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کا فائدہ ہوگا تاہم افغان کھلاڑیوں کو بھی ان کنڈیشنز کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے۔

افغان ٹیم کے کوچ کا کہنا تھا کہ وہ ایشیا کپ میں اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں:’بیٹنگ سے فکرمندی لاحق ہے لیکن اس کا ایک سبب بڑی ٹیموں کے خلاف ایک بڑے کراؤڈ اور ٹی وی کوریج میں کھیلنے کا پریشر تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ ہی دور ہوگا۔‘

کبیر خان نے کہا کہ ایشیا کپ میں دیگر ٹیمیں مختلف ایجنڈے کے ساتھ آئی تھیں جبکہ افغانستان کی ٹیم صرف ایک مقصد کے ساتھ آئی تھی کہ اگر وہ ایک یادو ٹیموں کے خلاف میچ جیت لیتی ہے تو اس سے افغانستان کی کرکٹ ہی نہیں بلکہ پوری نوجوان نسل کے حالات بدل سکتے ہیں۔

ان کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف جیت نے ہمیں اپنے مقصد کی تکمیل میں بڑی مدد دی ہے اور انہیں یقین ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان کرکٹ کی طرف آئیں گے اور اس کا فائدہ ملک کو ہوگا۔

اسی بارے میں