بیٹنگ وہی جو دلوں پر راج کرے

محدود اوورز کی کرکٹ چاہے وہ ون ڈے ہو یا ٹی ٹوئنٹی ، چوکے چھکوں کے بغیر بے رونق ہے۔

اسٹائلش بیٹنگ کرنے والوں کی اہمیت اپنی جگہ اہم لیکن شائقین کے دلوں پر وہی بیٹسمین راج کرتے ہیں جو بولرز پر حاوی ہوکر گیند کے ساتھ بے رحمانہ سلوک روا رکھتے ہیں ۔

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی چند ایسے بیٹسمین نظر آرہے ہیں جو اپنی جارحانہ بیٹنگ سے میچ کا نقشہ پلٹنے اور دھڑکنوں کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کرس گیل ( ویسٹ انڈیز) ۔

کرس گیل اور ٹی ٹوئنٹی لازم و ملزوم بن چکے ہیں ۔ آئی پی ایل یا کوئی بھی دوسری لیگ کرس گیل کے بغیر مکمل نہیں۔ ہر فرنچائز کرس گیل کو اپنی ٹیم میں دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ کرس گیل کو میلہ لوٹنا خوب آتا ہے۔

آئی پی ایل میں صرف تیس گیندوں پر سنچری مکمل کرتے ہوئے سترہ چھکوں اور تیرہ چوکوں کی مدد سے ایک سو پچھہتر رنز کی ریکارڈ ساز اننگز ہو یا سڈنی ڈھاکہ اور ہرارے میں جارحانہ بیٹنگ کے دلکش نظارے۔ ان سب نے مبصرین کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ کرس گیل بلاشبہ مختصر دورانیے کی کرکٹ کے سب سے جارح بیٹسمین ہیں۔

کرس گیل کی طوفانی بیٹنگ صرف تجارتی لیگ تک محدود نہیں بلکہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی باؤلرز کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئے ہیں۔

کرس گیل کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی اولین سنچری سکور کرنے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔

دو سال قبل ویسٹ انڈیز نے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تو اس میں کرس گیل کی جارحانہ بیٹنگ کا دخل نمایاں تھا لیکن شائقین ان کی بیٹنگ سے زیادہ ان کے گینگ نم ڈانس سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔

کرس گیل متعدد بار ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ سے اختلافات کے سبب شہ سرخیوں میں رہے ہیں لیکن یہ شہ سرخیاں اس وقت اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہیں جب وہ اپنی شاندار بیٹنگ سے اصل ہیڈلائن میں نظر آتے ہیں۔

برینڈن میک کیولم ( نیوزی لینڈ )۔

تصویر کے کاپی رائٹ a
Image caption برنڈن میک کیولم نے وارم آپ میچ میں نصف سنچری بنائی

نیوزی لینڈ کے کپتان میک کیولم کی لغت میں بھی باؤلر کے لیے کوئی رعایت نہیں لکھی ہے۔ جب وہ فارم میں ہوں تو باؤلرز کی مایوسی بڑھ جاتی ہے لیکن شائقین کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں کیونکہ اس سے بہترین تفریح کوئی اور ہونہیں سکتی ۔

شائقین پہلی آئی پی ایل میں میک کیولم کی ایک سو اٹھاون رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز ابھی بھی نہیں بھولے ہیں جس میں ایسا دکھائی دے رہا تھا جیسے میک کیولم ٹینس بال سے کھیل رہے ہوں۔ اس اننگز میں انھوں نے تیرہ چھکے اور دس چوکے لگائے تھے۔

میک کیولم کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 1959 رنز سب سے زیادہ 187 چوکے سب سے زیادہ 80 چھکے اور سب سے زیادہ دو سنچریوں کے ریکارڈز کے مالک ہیں۔

حال ہی میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ میں میک کیولم نے ٹرپل سنچری بھی سکور کی جو ٹیسٹ کرکٹ میں نیوزی لینڈ کی پہلی ٹرپل سنچری بھی ہے۔

ایرون فنچ ( آسٹریلیا ) ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایرن فنچ پر بھی کرکٹ ناقدین کی خبریں ہیں

ایرون فنچ آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپنی دھواں دھار بیٹنگ سے تجربہ کار بیٹسمینوں کے درمیان اپنی موجودگی کا احساس دلا چکے ہیں۔

ایرون فنچ نے تین سال قبل اپنا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر شروع کیا اور دوسرے ہی میچ میں نصف سنچری سکور کی لیکن دو سال کے دوران وہ کوئی خاص تاثر نہ چھوڑ سکے۔ ان کے کریئر کا اہم موڑ اس وقت آیا جب گزشتہ سال انھوں نے انگلینڈ کے خلاف ساؤتھمپٹن میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی میں 156 رنز کی طوفانی اننگز کھیل ڈالی جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا سب سے بڑا انفرادی سکور بھی ہے۔ اس اننگز میں انھوں نے سب سے زیادہ چودہ چھکوں کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

فنچ نے ون ڈے کریر کا آغاز گزشتہ سال کیا اور سات میچوں میں ناکام رہنے کے بعد اسکاٹ لینڈ کے بولنگ اٹیک پر غصہ اتارتے ہوئے سات چھکوں اورسولہ چوکوں کی مدد سے148 رنز بنائے تاہم اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف میلبرن اور پرتھ میں سنچریوں نے فنچ کے اعتماد میں اضافہ کردیا۔

فنچ آئی پی ایل اور بگ بیش میں بھی متعدد قابل ذکر اننگز کھیل چکے ہیں۔ آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی میں آسٹریلوی ٹیم فنچ کی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھے ہوئے ہے۔

ڈیوڈ وارنر( آسٹریلیا )۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ڈیوڈ وارنر کا گرم مزاج ان کی بیٹنگ میں جھلکتا ہے۔گزشتہ سال وہ چیمپئنز ٹرافی کے دوران انگلینڈ کے جو روٹ اور پھر جنوبی افریقہ اے کے کرکٹر کے ساتھ جھگڑے میں ملوث پائے گئے لیکن جہاں تک ان کی بیٹنگ کا تعلق ہے تو وہ آسٹریلوی ٹیم کو بڑے سکور تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

وہ آسٹریلوی تاریخ کے پہلے بیٹسمین ہیں جو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے بغیر آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے اور جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی میں صرف تنتالیس گیندوں پر 89 رنز کی شاندار اننگز کھیل ڈالی۔

ایک عرصے تک وارنر پر محدود اوورز کی کرکٹ کے بیٹسمین کی چھاپ لگی رہی لیکن جب انھیں ٹیسٹ کرکٹ میں موقع دیا گیا تو انھوں نے اس میں بھی اپنی بھرپور مہارت ثابت کردی۔

جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کی چھ اننگز میں وارنر نے تین سنچریاں اور دو نصف سنچریاں بنائیں جن میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ اننگز کی دونوں اننگز میں سنچریاں بھی شامل ہیں۔

کوشل پریرا ( سری لنکا )۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایشیا کپ جینتے والی سری لنکا کی ٹیم میں کوشل پریرا شامل تھے

کوشل پریرا کو بیٹنگ کرتا دیکھ کر سنتھ جے سوریا کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

جے سوریا نے نوے کی دہائی میں ابتدائی اوورز میں بولنگ پر حاوی ہوجانے کی جو روایت ڈالی تھی کوشل پریرا ان ہی کے انداز میں بے خوف بیٹنگ سے اس روایت کو دوبارہ زندہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

صرف ایک سال کی بین الاقوامی کرکٹ میں کوشل پریرا نے کئی ایسی اننگز کھیل ڈالی ہیں جس نے تجربہ کار سنگا کارا۔ جے وردھنے اور دلشن کی موجودگی میں ان کے قد کاٹھ کو بڑھا دیا ہے۔

پریرا گزشتہ سال آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی سری لنکن ٹیم میں شامل کیے گئے تھے لیکن وہ کوئی قابل ذکر سکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ وطن واپسی پر انھوں نے فرسٹ کلاس میچ میں ٹرپل سنچری سکور کر ڈالی اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف ہمبنٹوٹا اور پالی کلے کے ون ڈے میچوں میں دو تیز رفتار اننگز کھیلیں۔

پالی کلے کے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی ان کی پانچ چوکوں اور چار چھکوں سے سجی چونسٹھ رنز کی اننگز نے بنگلہ دیشی بولرز کے اعداد و شمار کو بے ترتیب اور بھاری بھرکم بنا دیا۔اتنے ہی چوکوں اور چھکوں کی مدد سے پاکستانی بولنگ کے خلاف ان کے بنائے گئے چوراسی رنز سری لنکا کی جیت کا سبب بنے۔

بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکہ کے ون ڈے میں اپنی پہلی سنچری سکور کرنے کے بعد پریرا نے ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف نصف سنچری بنائی اور فائنل میں پاکستان کے خلاف چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے تیز رفتار بیالیس رنز بناکر سری لنکا کو جیت کا حوصلہ فراہم کیا۔

یوراج سنگھ ( بھارت )۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یوراج طویل بیماری کے بعد کرکٹ میں اپنے آپ کو دوبارہ منوانے میں کامیاب ہوئے

یوراج سنگھ کی جارحانہ بیٹنگ ان کے موڈ پر منحصر ہے ۔ ان کا اچھا موڈ باؤلرز کا مزاج بری طرح خراب کردیتا ہے۔ یہ بات انگلینڈ کے اسٹورٹ براڈ سے زیادہ بہتر اور کون سمجھ سکتا ہے۔

دو ہزار سات کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں یوراج سنگھ نے براڈ کی وہ درگت بنائی تھی کہ وہ بے بسی کی تصویر بن گئے تھے۔ وہ پہلا موقع تھا کہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بیٹسمین نے ایک اوور کی تمام چھ گیندوں پر چھکے لگائے تھے۔

یوراج سنگھ نے اس عالمی مقابلے میں آسٹریلوی بولنگ کے خلاف بھی پانچ چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے ستّر رنز سکور کیے تھے جس کے بعد وہ بھارت کی ہر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مہم کا حصہ رہے ۔

یوراج سنگھ کے کریر کا نقطہ عروج دو ہزار گیارہ کا عالمی کپ ہے جس میں وہ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے لیکن فوراً بعد ان کی زندگی ہی بدل گئی جب پتہ چلا کہ وہ کینسر میں مبتلا ہیں۔ اس وقت ان کے لیے کرکٹ کی کوئی اہمیت نہیں رہی تھی لیکن مکمل علاج کے بعد یوراج سنگھ نہ صرف زندگی کے معمولات میں لوٹے بلکہ انھوں نے دوبارہ بیٹ بھی سنبھال لیا اور اسی جارحیت کے ساتھ بولرز کا موڈ خراب کرتے دکھائی دیے جو ان کی خوبی رہی ہے۔

پاکستان کے خلاف احمد آباد کے ٹی ٹوئنٹی میچ میں انھوں نے صرف چھتیس گیندوں پر سات چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 72 رنز بنائے تھے۔ گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف راجکوٹ کے ٹی ٹوئنٹی کی اننگز بھی کچھ زیادہ مختلف نہ تھی جس میں انھوں نےصرف پنتیس گیندوں پر پانچ چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے 77 رنز بنائے تھے جو ان کا بہترین انفرادی سکور بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد آفریدی کا بلا کس وقت بھی رنز اگلنا شروع کر سکتا ہے۔

شاہد آفریدی ( پاکستان )۔

کرکٹ کی عالمی رینکنگ چاہے کچھ بھی کہہ رہی ہو لیکن مقبولیت کی درجہ بندی میں شاہد آفریدی نے روز اول سے آج تک اپنی پوزیشن مستحکم رکھی ہے ۔ان کے پرستاروں کی تعداد کسی بھی دوسرے کرکٹر سے کہیں زیادہ ہے۔

شاہد آفریدی کا بیٹنگ کرتے وقت ہوش کے بجائے جوش سے کام لینا پنڈتوں کے نزدیک ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے لیکن یہی کمزوری دراصل وہ خوبی ہے جسے دنیا دیکھنا چاہتی ہے۔ اسی خوبی کے سبب آج وہ ون ڈے کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بیٹسمین ہیں۔ اسی خوبی نے انہیں طویل عرصے تک ون ڈے کی تاریخ کا تیز ترین سنچری میکر بنائے رکھا اور اسی خوبی کے نتیجے میں ان کا اسٹرائیک ریٹ دوسرے بیٹسمینوں کی پہنچ سے بہت دور دکھائی دیتا ہے۔

شاہد آفریدی نے کافی عرصے سے خود کو ایک باؤلر قرار دے رکھا ہے لیکن انھیں اس بات کا بھی بخوبی احساس ہے کہ شائقین کو ان کی لیگ اسپن سے زیادہ ان کے بلندوبالا چھکوں سے دلچسپی ہے اور جب ایشیا کپ میں انھوں نے ایشون اور بنگلہ دیشی باؤلرز کی درگت بنائی تو ان کے پرستاروں کو جیسے سب کچھ مل گیا ہو۔

شاہد آفریدی ہرفن مولا کرکٹر ہیں جو بیٹنگ بولنگ اور فیلڈنگ کسی بھی شعبے میں کچھ بھی کرکے میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔

پہلے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں وہ باؤلر کے روپ میں کامیاب رہے تو دوسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ان کی بیٹنگ نے سیمی فائنل اور فائنل میں پاکستان کو کامیابی دلاتے ہوئے چیمپین بنوا دیا۔

شاہد آفریدی کی فارم جیسے آتی جاتی رہی ہے اسی طرح کپتانی کا بھی آنا جانا لگا رہا ہے لیکن اس سے قطع نظر ایک’ٹیم مین‘ کی حیثیت سے انھوں نے ہمیشہ اپنی کارکردگی کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے جس دن آفریدی کا جادو سرچڑھ کر بولا اس دن پاکستانی ٹیم کو کوئی نہیں ہراسکتا۔

اسی بارے میں