ٹی ٹوئنٹی کا بڑا میچ آج کھیلا جائے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد حفیظ اس بات کے بارے میں پریشان نہیں کہ پاکستان نے بھارت کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں شکست نہیں دی

جمعے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑے میچ سے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ سپر ٹن کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں گروپ دو میں ہیں جس میں دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور گروپ اے سے کوالیفائی کرنے والا بنگلہ دیش شامل ہے۔

دونوں ٹیمیں جمعہ کے روز میرپور کے شیرِ بنگلہ سٹیڈیم میں مدمقابل ہو رہی ہیں۔

اچھا ہے کہ پہلا میچ بھارت کے خلاف ہے: محمد حفیظ

’ٹی ٹوئنٹی میں اچھی بری ٹیموں کا فرق کم رہ گیا ہے‘

بھارت کو کسی بڑے مقابلے میں شکست نہ دینے کے باوجود پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا ریکارڈ بھارت کے مقابلے میں اچھا ہے۔ پاکستان ماضی میں ہونے ولے ٹی ٹوئنٹی کے چاروں عالمی کپ کے مقابلوں میں سیمی فائنل تک پہنچا ہے اور سنہ 2009 میں انگلینڈ کو ہرا ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپیئن بھی بنا ہے۔

بھارت سنہ 2007 میں ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپیئن بننے کے بعد کبھی سیمی فائنل تک نہیں پہنچا لیکن وہ پاکستان کے خلاف کھیلے گئے پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں صرف ایک ہارا ہے۔

ایک ٹیم کے پاس ٹی ٹوئنٹی کا سب سے کامیاب بولنگ اٹیک ہے اور دوسری ٹیم کو اپنے بلے بازوں کی لمبی قطار پر ناز ہے۔

پاکستان نے ابھی تک ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بھارت کو شکست نہیں دی ہے لیکن کپتان محمد حفیظ اسے تاریخ اور ماضی سمجھ کر آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں۔

محمد حفیظ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم صرف بھارت کو ہرانے کی سوچ کے ساتھ یہ ٹورنامنٹ نہیں کھیل رہی ہے بلکہ وہ چاہتی ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔

محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ انھیں بیٹنگ پر تشویش نہیں ہے کیونکہ ٹیم کے پاس اچھے بلے باز موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی ٹیم کو اچھے اور برے دنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’پاکستانی ٹیم دو وارم اپ میچوں سے جو مقصد حاصل کرنا چاہتی تھی وہ حاصل کرلیا۔‘

شاہد آفریدی کے بارے میں سوال پر پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہوگی کہ شاہد آفریدی ایشیا کپ کی کارکردگی دہرائیں، وہ اس وقت فارم میں ہیں اور فٹ بھی ہوچکے ہیں۔

ادھر بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاک بھارت کرکٹ میں پائی جانے والی تناؤ کی کیفیت میں کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیموں کے درمیان فرق بہت کم رہتا ہے کیونکہ اس کرکٹ میں بہت اتار چڑھاؤ ہے ۔

اپنے فاسٹ بولرز کے بارے میں بھارتی کپتان نے کہا کہ یقیناً ان کے تیز بولرز کے پاس انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی کا تجربہ نہیں ہے لیکن آئی پی ایل کھیل کر انہیں اس فارمیٹ کی سمجھ بوجھ ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں