جیت سے ابتدا ہوتو کیا بات ہے: جارج بیلی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption جارج بیلی نے چوبیس ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں دو نصف سنچریوں کی مدد سے چار سو پنتیس رنز بنائے ہیں

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی ابتدا اتوار کے روز پاکستان کے خلاف میچ سے کر رہی ہے اور کپتان جارج بیلی کا کہنا ہے کہ آغاز اگر جیت سے ہو تو اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

آسٹریلوی ٹیم ابھی تک ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اس بار وہ ایک مضبوط ٹیم کے طور پر حریف ٹیموں کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے لیکن انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف آخری پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز جیتنے کے بعد اس کا مقابلہ مختلف کنڈیشنز میں دنیا کے بہترین ٹی ٹوئنٹی اسپن اٹیک سے ہے۔

جارج بیلی کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستانی ٹیم کی قوت کا بخوبی اندازہ ہے اس کے پاس کئی میچ ونر کھلاڑی موجود ہیں۔ آسٹریلوی بیٹسمینوں کو اگر کہیں مشکل ہوئی ہے تو وہ پاکستانی اسپنرز کے خلاف ہوئی ہے۔ وہ واقعی خطرناک ہیں۔

واضح رہے کہ آف اسپنر سعید اجمل نے آسٹریلیا کے خلاف دس ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں اور اٹھارہ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

جارج بیلی نے چوبیس ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں دو نصف سنچریوں کی مدد سے چار سو پنتیس رنز بنائے ہیں اور بحیثیت کپتان ان چوبیس میں سے تیرہ میچ جیتے بھی ہیں۔

جارج بیلی کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی بیٹنگ لائن مضبوط ہے اور وہ پاکستانی اسپنرز کے خلاف اچھا کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل کی کرکٹ میں کھلاڑیوں کو ہر طرح کی کنڈیشنز سے خود کو ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے اور انہیں حیرت ہوگی کہ اگر کوئی ٹیم کنڈیشنز کے بارے میں شکایت کرے۔

جارج بیلی نے موجودہ ٹیم کا موازنہ دوسال قبل ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی آسٹریلوی ٹیم سے کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ٹیم بولنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں زیادہ متوازن ہے۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان آخری بار ٹی ٹوئنٹی مقابلہ سری لنکا میں منعقدہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں