’کراچی گئے تو بیوہ ہوجاؤں گی‘

Image caption محمد بشیر کراچی میں پیدا ہوئے وہیں پلے بڑھے کلب کرکٹ بھی کھیلی لیکن بقول ان کے سیاست کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکے

محمد بشیر نے پنتیس سال پہلے کراچی چھوڑ کر شکاگو میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی جہاں ان کا ریستوران ہے لیکن کاروبار اپنے بیٹے کے سپرد کرکے وہ اب کرکٹ کے ایک ایک لمحے سے لطف اٹھارہے ہیں اور ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں پاکستانی کرکٹ ٹیم کھیل رہی ہوتی ہے۔

محمد بشیر آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی رونق بڑھانے اور پاکستانی ٹیم کے لیے فلک شگاف نعرے لگانے کے لیے ڈھاکہ میں بھی موجود ہیں۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان فتح اللہ میں وارم اپ میچ کے دوران محمد بشیر جیسے ہی اسٹیڈیم میں داخل ہوئے ہر کوئی انہی کی جانب متوجہ ہوگیا اس کی وجہ ان کا لباس اور انداز ہے جو صوفی جلیل چاچا کرکٹ اور محمد زمان چاچا ٹی ٹوئنٹی جیسا ہی ہے۔

وہ ہمیشہ پاکستانی پرچم کے رنگ والی سبز قمیص پہنے ہوتے ہیں جس پر چاند تارہ دور سے دکھائی دیتا ہے۔ ایک ہاتھ میں ٹرافی اور دوسرےہاتھ میں پاکستانی پرچم ہوتا ہے اور زبان پر ٹیم کے لیے دلچسپ نعرے۔

محمد بشیر سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ زندہ دل شخص ہیں جس میں زبردست حسِ مزاح موجود ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایک بھارتی پرچم بھی اپنے ساتھ رکھا ہے وہ کیوں؟ تو بولے’ اس پر لکھا ہے جس دیس میں گنگا بہتی ہے اس میں میری بیوی رہتی ہے۔‘

محمد بشیر نے کرکٹ کے شوق میں اپنی بیوی کی ناراضگی بھی مول رکھی ہے لیکن کچھ بھی ہوجائے وہ کرکٹ سے تعلق ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

’میں نے بیوی کو کہا کہ میں ساری عمر کماکر تم لوگوں کو پیسے دیتا رہا ہوں اب مجھے کچھ انجوائے کرنے دو۔ بارہ سال سے کرکٹ کے میچز دیکھنے مختلف ملکوں میں جا رہا ہوں۔ بیوی کہتی ہے تین بیٹیوں کی شادی کی فکر بھی ہے میں کہتا ہوں اللہ سب کام کرادے گا۔‘

محمد بشیر کراچی میں پیدا ہوئے وہیں پلے بڑھے کلب کرکٹ بھی کھیلی لیکن بقول ان کے سیاست کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اب شکاگو میں رہ کر پاکستان بہت یاد آتا ہے لیکن کہتے ہیں کہ اب وہاں کے خراب حالات میں جانا ممکن نہیں ہے۔

’وہ بھی کیا زمانہ تھا جب آدھی رات کو بھی کسی ڈر خوف کے تفریح کرنے جایا کرتے تھے۔ مزے مزے کے کھانے اور پی آئی ڈی سی ہاؤس کا پان آج بھی یاد آتا ہے ۔ میں بیوی کو کہتا ہوں کہ کراچی جاکر برنس روڈ کی ربڑی کھانے کا بہت دل کرتا ہے لیکن وہ کہتی ہے کہ آپ کراچی گئے تو میں بیوہ ہوجاؤں گی۔‘

محمد بشیر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بہت بڑے مداح ہیں لیکن انہیں اس سے شکایت بھی ہے۔

’میں پاکستانی ٹیم کی حمایت کرنے ہر جگہ پہنچتا ہوں لیکن ٹیم ہارجاتی ہے تو خوشی افسوس میں بدل جاتی ہے اور مکیش کا گانا گاتا ہوں ، تارہ ٹوٹے دنیا دیکھے۔‘

محمد بشیر کو اس بات کا دکھ ہے کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے مقابلے نہیں ہوسکتے ہیں۔

’سری لنکن ٹیم پر حملے کے ملزمان کو پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن انہیں سزا نہیں ہوئی۔ اس واقعے نے پاکستانی کرکٹ تباہ کردی اب نیشنل اسٹیڈیم میں کوے کائیں کائیں کرتے ہیں۔ پاکستان کے میچز امارات میں ہوتے ہیں لیکن عام شائقین وہاں جانے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے یہ ہمارے بچوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنے اسٹار کو اپنے سامنے کھیلتا نہیں دیکھ سکتے۔‘