ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ فٹنس ہے: نجم سیٹھی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دو یا تین کے سوا تمام ہی کھلاڑیوں کی فٹنس بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

نجم سیٹھی نے اتوار کے روز آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی کوریج کے لیے موجود پاکستانی صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران کہا کہ ٹیم کے کوچ معین خان اور بیٹنگ کنسلٹنٹ ظہیر عباس نے بھی انہیں یہ بتایا ہے کہ ٹیم کا اہم مسئلہ فٹنس ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے لیے یا تو ٹریننگ کی سہولتیں نہیں ہیں اور اگر ہیں تو انہیں صحیح طور پر استعمال نہیں کیا گیا ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ کھلاڑیوں کی فٹنس کو بین الاقوامی معیار پر لانے کے لیے برطانوی ٹرینر کی خدمات حاصل کی جائیں گی اس کے علاوہ بیٹسمینوں کی تیکنکی خامیوں کو دور کرنے کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جسے پرفارمنس سے مشروط کیا جارہا ہے ۔

اس بار بیس سے بائیس کھلاڑیوں کو ایک سال کی بجائے چھ ماہ کے لیے کنٹریکٹ دیے جائیں گے۔

انہوں نے واضح کردیا کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی کارکردگی سینٹرل کنٹریکٹ میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اگر ٹیم نے اس ایونٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی تو یقیناً کھلاڑیوں کو اچھے پیسے ملیں گے لیکن اگر کارکردگی مایوس کن رہی تو پھر یقیناً یہ سوچا جائے گا کہ کیا یہ کھلاڑی پرکشش معاوضوں کے حقدار ہیں یا نہیں؟

نجم سیٹھی نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سنچری اننگز میں پانچ اور میچ میں دس وکٹوں جیسی کارکردگی پر بھی کھلاڑیوں کو انعامات دیتا رہا ہے۔

مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز کی حد تک یہ بات درست ہے لیکن باقی انعامات کیوں؟ یہ سلسلہ اب محدود کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں