’بہترین اننگز تھی لیکن زیادہ خوشی جیت کی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کسی بھی موقع پر اس طرح کا خیال نہیں آیا کہ پاکستانی ٹیم یہ میچ بھی ہار سکتی ہے:عمر اکمل

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین عمر اکمل آسٹریلیا کے خلاف 94 رنز کو اپنے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کریئر کی بہترین اننگز قرار دیتے ہیں لیکن انہیں زیادہ خوشی میچ جیتنے کی ہے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کے خلاف سولہ رنز کی جیت کے بعد عمر اکمل کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان کی بہترین اننگز ہے جو انہوں نے کپتان اور کوچ کی جانب سے دیے گئے بھرپور اعتماد کے ساتھ کھیلی۔

عمر اکمل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ میچ بہت اہمیت رکھتا تھا اور انہیں خوشی ہے کہ پاکستانی ٹیم نے زبردست انداز میں کم بیک کیا۔

انھوں نے کہا کہ کپتان اور کوچ نے صرف یہ کہا تھا کہ ’اپنا قدرتی کھیل کھیلو ۔ تم میں بہت کچھ کر دکھانے کی اہلیت ہے آج کچھ کر دکھا کر مین آف دی میچ بنو۔‘

دو وکٹیں جلدگر جانے کے بعد بڑے بھائی کے ساتھ 96 رنز کی اہم شراکت کے بارے میں عمراکمل کا کہنا ہے کہ کافی عرصے کے بعد دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ کھیلنے کا موقع ملا لیکن چونکہ وہ پہلے بھی ایک ساتھ کھیل چکے ہیں لہذا ذہنی ہم آہنگی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

’بیٹنگ کے دوران پریشر ضرور آیا تھا لیکن یہ پریشر انہوں نے اپنے اوپر لے لیا تھا اور اپنے اسٹروکس کھیلنے نہیں رکے تھے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ دو ہزار دس میں ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل میں بھی پاکستان نے میرپور کے میچ کی طرح 191 رنز سکور کیے تھے جس میں اکمل برادران کی نصف سنچریاں شامل تھیں لیکن پاکستانی بولرز اس سکور کا دفاع نہیں کر سکے تھے اور مائیکل ہسی کی سعید اجمل کے خلاف جارحانہ بیٹنگ نے میچ کا نقشہ بدل دیا تھا۔

تاہم اتوار کے روز میچ میں عمراکمل کو کسی بھی موقع پر اس طرح کا خیال نہیں آیا کہ پاکستانی ٹیم یہ میچ بھی ہارسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی بولنگ بہت مضبوط ہے اس نے جس طرح کم بیک کیا اور آخری آٹھ وکٹیں صرف 49 رنز پر حاصل کر ڈالیں یہ ایک زبردست کارکردگی ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

عمر اکمل کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹی پر نہ پہلے اوور میں کوئی پریشر تھا نہ آخری اوور میں تاہم آخری اوور کرانے سے قبل عمرگل نے اپنے وسیع تجربے کے مطابق بلاول سے بات ضرور کی تھی۔

اسی بارے میں