یہ کھیل ہے جنگ نہیں

Image caption چاچا ٹی ٹوئنٹی اس سے قبل 2012 کے ایشیا کپ میں بھی بنگلہ دیش آچکے ہیں

چاچا ٹی ٹوئنٹی کے نام سے مشہور محمد زمان سر پر پگڑی سجائے پاکستانی پرچم میں ملبوس اپنی لمبی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے نعرے بلند کرتے ہیں تو کرکٹ کے میدان میں یہ ایک دلچسپ نظارہ ہوتا ہے۔

چاچا ٹی ٹوئنٹی، آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے موقع پر ڈھاکہ پہنچے ہیں تاکہ پاکستانی ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کرسکیں لیکن انہیں یہ جان کر افسوس ہوا کہ بنگلہ دیشی شائقین پر میدان میں غیرملکی پرچم لانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

’یہ کھیل ہے جنگ نہیں ہے اسے کھیل کی روح کے مطابق دیکھنا چاہیے۔‘

چاچا ٹی ٹوئنٹی کا بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے یہ فوری ردعمل تھا۔

’ کرکٹ کے میدانوں میں ہر کسی کو کسی بھی ٹیم کی حوصلہ افزائی کا حق حاصل ہے اور یہ ضروری نہیں کہ تمام کا تمام ہوم کراؤڈ صرف ہوم ٹیم کی ہی حمایت کرے۔ دونوں ٹیموں کو میدان میں شائقین کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔‘

’بنگلہ دیشی شائقین کی ایک بڑی تعداد پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے ڈھول تاشوں اور پرچموں کے ساتھ آتی ہے ۔انہیں اس سے روکنا مناسب نہیں۔‘

چاچا ٹی ٹوئنٹی کا کہنا ہے کہ کرکٹ یا کسی بھی کھیل میں بڑے دل کی ضرورت ہے۔

’ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جتنا بڑا ایونٹ ہے اس میں دل بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے۔ 1996کے ورلڈ کپ کی مثال سب کے سامنے ہے جب سری لنکا کی ٹیم جیتی تو کپتان رانا تنگا کو اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ٹرافی دی تھی لیکن دو سال قبل جب پاکستانی ٹیم ایشیا کپ جیتی تو بنگلہ دیشی وزیراعظم سٹیڈیم سے جاچکی تھیں۔‘

چاچا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں صرف پاکستانی ٹیم کے میچ دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’بعض اوقات تماشائی آپ کو تنگ بھی کرتے ہیں لہذا بہتر یہی ہے کہ میں صرف پاکستانی ٹیم کے میچ دیکھنے اور اپنی ٹیم کی ہمت بڑھانے سٹیڈیم جاؤں تاکہ کوئی بدمزگی نہ ہو۔‘

چاچا ٹی ٹوئنٹی اس سے قبل 2012 کے ایشیا کپ میں بھی بنگلہ دیش آچکے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں جاکر پاکستانی پرچم لہرا کر اور مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے سٹیڈیم میں ایک ماحول پیدا کردینے والے چاچا ٹی ٹوئنٹی کو سری لنکا سب سے اچھا لگا ہے۔

’سری لنکا کے سٹیڈیمز میں کرکٹ کا زبردست ماحول ہے وہاں کے شائقین پاکستانی ٹیم سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کے درمیان بیٹھ کر نعرے لگانے کا اپنا مزا ہے۔‘

اسی بارے میں