گواسکر کو بی سی سی آئی کا عبوری صدر بنانے کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوپریم کورٹ کی تجاویز میں سری نواسن کا عہدہ چھوڑنے کی بات بھی شامل ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر این سری نواسن کو ہٹاکر یہ عہدہ عبوری طور پر سابق کپتان سنیل گواسکر کے سپرد کرنے اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی زد میں آنے والی انڈین پریمئر لیگ کی دو بڑی ٹیموں راجستھان رائلز اور چینّئی سوپر کنگز کو ٹورنامنٹ سے باہر رکھنے کی تجویز دی ہے۔

عدالت آئی پی ایل میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ سے متلعق کیس میں فریقوں کے آخری دلائل سننے کے بعد جمعہ کو عارضی حکم صادرکرے گی۔

لیکن مسٹر سری نواسن کے مستقبل پر سماعت اب سولہ اپریل کو ہوگی۔

گذشتہ برس آئی پی ایل کے فوراً بعد دہلی اور ممبئی کی پولیس نے میچوں کے دوران سپاٹ فکسنگ اور بڑے پیمانے پر سٹے بازی کے الزامات لگائے تھے اور اس سلسلے میں چینّئی سوپر کنگز کے فاسٹ بولر سری سنت اور مسٹر سری نواسن کے داماد گروناتھ میپّن سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ سبھی لوگ اب ضمانت پر رہا ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے کھلاڑیوں میں راجستھان رائلز کے کھلاڑی بھی شامل تھے اور ٹیم کے مالکان راج کندرا اور شلپا شیٹی سے بھی سی بی آئی نےپوچھ گچھ کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنیل گاوسکر اپنے زمانے کے مایہ ناز بلے باز مانے جاتے ہیں

عدالت نے کہا ہے کہ جب تک بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن اپنے عہدے پر فائز ہیں ان الزامات کی آزادانہ انکوائری ممکن نہیں ہے۔ سری نواسن چینّئی سوپر کنگز کو کنٹرول کرنے والی کمپنی انڈیا سیمنٹس کے مالک بھی ہیں۔ اسی پس منظر میں عبوری صدر کے طور پر سنیل گواسکر کا نام تجویز کیا گیا ہے۔

منگل کو اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے این سری نواسن کو مستعفی ہونے کے لیے دو دن کا وقت دیا تھا۔ لیکن انھوں نے بورڈ کے کئی دیگر اعلی اہلکاروں کے دباؤ کے باوجود عدالت کی خواہش پر عمل نہیں کیا تھا۔

عدالت نے اپنے ’عارضی مجوزہ حکم‘ میں یہ تجویز بھی دی کہ این سری نواسن کی کمپنی انڈیا سیمنٹس کے جتنے بھی اہلکار بی سی سی آئی میں کام کرتے ہیں انھیں ہٹادیا جائے۔

اسی بارے میں