’سنچری برا بھلا کہنے والوں کے نام‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد شہزاد اس سے قبل زمبابوے کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں 98 رن بنا چکے ہیں

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی اولین سنچری سکور کرنے والے احمد شہزاد نے پہلے تو میدان میں بنگلہ دیشی بولروں کے خلاف غصہ اتارا اور جب میچ کے بعد ذرائعِ ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے آئے تو اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو بھی نہیں بھولے۔

احمد شہزاد سے سوال کیا گیا کہ یہ سنچری کس کے نام کریں گے تو انھوں نے اس سیدھے سادے سوال پر کرارا شاٹ کھیلتے ہوئے کہا کہ یہ سنچری ان لوگوں کے لیے تحفہ ہے جو انہیں پیار بھی کرتے ہیں اور تنقید بھی کرتے ہیں، یہ ان کے لیے تحفہ ہے جنہوں نے ان کے لیے اچھا برا کہا، یہ ان کے لیے بھی تحفہ ہے جس نے پاکستان سے باہر بھی انہیں برا بھلا کہا۔

احمد شہزاد کا کہنا ہے کہ ایک دو اننگز سے کسی بھی بیٹسمین کو نہیں پرکھا جا سکتا۔

احمد شہزاد کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی طرف سے پہلی سنچری سکور کر کے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں جس نے تینوں فارمیٹ میں سنچری بنائی ہے تاہم ذاتی طور پر انہیں اپنی 98 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز بہت پسند ہے۔

احمد شہزاد نے 98 رنز کی اننگز کو ترجیح دینے کی وجہ یہ بتائی کہ جب انھوں نے وہ اننگز کھیلی ان کی پاکستانی ون ڈے ٹیم میں پوزیشن محفوظ نہیں تھی لہٰذا ان حالات میں وہ اننگز ان کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد شہزاد نے کہا کہ انھیں زمبابوے کے خلاف اننگز زیادہ مزےدار لگی تھی

قابل ذکر بات یہ ہے کہ 98 رنز کی اس اننگز کے بعد وہ ٹی ٹوئنٹی کی نو اننگز میں بڑا سکور نہیں کر سکے تھے تاہم اس دوران انھوں نے سری لنکا کے خلاف شارجہ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 147 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

احمد شہزاد نے حالیہ ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کے خلاف سنچری اور افغانستان کے خلاف نصف سنچری بھی بنائی تھی۔

احمد شہزاد کا اپنی سنچری کے بارے میں کہنا ہے کہ جب وہ 70 رنز پر وہ بیٹنگ کر رہے تھے تو شعیب ملک نے ان سے کہا کہ آج سنچری سکور کرنے کا سنہری موقع ہے۔ کپتان نے بھی یہی پیغام بھیجا تھا کہ پورے 20 اوورز کھیلو۔ ان کی کوشش یہی تھی کہ فاسٹ بولرز کے خلاف زیادہ سے زیادہ رنز بنائے جائیں اور سپنروں کے خلاف زیادہ خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ شعیب ملک کو بھی ان کی سنچری کا کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے ہمت بڑھائی ان کے ساتھ بیٹنگ میں مزا آیا، خاص کر وکٹوں کے درمیان دوڑنے کے سلسلے میں دونوں میں بڑی ہم آہنگی رہی۔

اسی بارے میں