شہزاد کی سنچری، پاکستان جیت گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد شہزاد ٹی ٹوئنٹی میں سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی ہیں

تپتی دھوپ میں احمد شہزاد کی آگ برساتی اننگز کے بل پر پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بنگلہ دیش کو 50 رنز سے ہرادیا۔

احمد شہزاد ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین بھی بن گئے اور وہ دنیائے کرکٹ میں اس فارٹیٹ میں سنچری بنانے والے نوجوان ترین کھلاڑی ہیں۔

انھوں نے دس چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے ایک سو گیارہ رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

پاکستان کے سکور ایک سو نوّے رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں بنگلہ دیشی ٹیم سات وکٹوں پر ایک سو چالیس رنز بناسکی۔

عمرگل نے تین اور سعید اجمل نے دو وکٹیں حاصل کرکے اپنی دھاک خوب بٹھائی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی جیت کے نتیجے میں آسٹریلوی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی ہے اور اس گروپ سے سیمی فائنل میں پہنچنے والی دوسری ٹیم کا فیصلہ منگل کو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے میچ میں ہوگا۔

محمد حفیظ نے ٹاس جیت کر سخت گرمی میں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو احمد شہزاد کے تیور ابتدا سے ہی خطرناک دکھائی دیے ۔انھوں نے الامین حسین کے پہلے اوور میں دو چوکے لگانے کے بعد مشرفی مرتضی کے دوسرے اوور میں تین لگاتار چوکوں کے بعد ایک چھکے کی مدد سے اٹھارہ رنز بنا ڈالے لیکن اپنے سامنے انھوں نے صرف اٹھائیس رنز کے اضافے پر تین وکٹیں گرتے بھی دیکھیں۔

کامران اکمل نے صرف نو رنز بناکر عبدالرزاق کے پہلے اوور میں ضیاء الرحمن کے عمدہ کیچ پر وکٹ گنوائی۔

کپتان محمد حفیظ ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور صرف آٹھ رنز بناکر عبدالرزاق کی گیند پر اپنے ہم منصب کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوئے۔

پاکستانی ٹیم کو سب سے بڑا دھچکہ عمراکمل کی وکٹ کی صورت میں لگا جنہوں نے پچھلے میچ میں چورانوے رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی لیکن اس بار کھاتہ کھولے بغیر ہی محمود اللہ کی گیند پر تمیم اقبال کے ہاتھوں دبوچے گئے۔

اکہتر رنز پر تین وکٹیں گرجانے کے بعد احمد شہزاد اور شعیب ملک کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں تراسی رنز بنے۔

شعیب ملک تیئس گیندیں کھیل کر چھبیس رنز بناکر شکیب الحسن کی گیند پر مشفق کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوئے۔

دو ہزار بارہ میں بھارت کے خلاف بنگلور میں بنائی گئی نصف سنچری کے بعد سات اننگز میں یہ شعیب ملک کا سب سے بڑا اسکور ہے۔

احمد شہزاد نے اٹھارہویں اوور میں سنچری نو چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے مکمل کی۔

اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ان ہی کا تھا جب انھہوں نے گزشتہ سال زمبابوے کے خلاف ہرارے میں اٹھانوے رنز بنائے تھے اور آؤٹ نہیں ہوئے تھے۔

شاہد آفریدی نے صرف نو گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے بائیس رنز بنائے جس میں دو چھکے اور چوکا شامل تھا۔

بنگلہ دیشی اننگز کی ابتدا تمیم اقبال اور انعام الحق نے اعتماد سے کی لیکن بولنگ میں کی جانے والی تبدیلیاں پاکستانی ٹیم کو راس آنے لگیں اور ٹی ٹوئنٹی کے سب سے کامیاب ٹرائیکا نے صرف چودہ رنز کے اضافے تین وکٹیں حاصل کرکے جیت کی طرف جانے کا راستہ کھول دیا ۔

عمرگل نے تمیم اقبال کو بولڈ کیا۔ سعید اجمل نے انعام الحق کو اپنی ہی گیند پر کیچ کیا اور شاہد آفریدی نے شمس الرحمن کو کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔

ذوالفقار بابر نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور انہوں نے کپتان مشفق الرحیم کو ایل بی ڈبلیو کردیا جس کے بعد میزبان ٹیم کے ہاتھ کچھ بھی نہ بچا تھا۔گزرنے والا ہر لمحہ بنگلہ دیشی ٹیم کو درکار رن ریٹ اور مایوسی میں اضافہ کرتے ہوئے اسے سپر ٹین مرحلے کی مسلسل تیسری شکس کی طرف دھکیلتا چلاگیا۔