پاکستان نے پچاس رن سے میچ جیت لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتوار کو دوسرا میچ آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا

بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے ایک اہم میچ میں پاکستان کی طرف سے احمد شہزاد نے شاندار سنچری سکور کی جس کی وجہ سے پاکستان نے میزبان ٹیم کے لیے 191 کا بڑا ہدف کھڑا کیا ہے۔

میچ کا لائیو سکور کارڈ

اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں: محمد حفیظ

پاکستان نے حفیظ اور سہیل تنویر کے ساتھ بالنگ شروع کرائی اور پہلے تین اوور میں بنگلہ دیشن نے بغیر نقصان کے بیس رن بنائے۔ سہیل تنویر کے دوسرے اور میچ کے چوتھے اوور میں دس رن پڑے اور بنگلہ دیش کا سکور 31 رن ہو گیا۔

عمر گل میچ کا پانچواں اوور کرانے آئے۔ انھوں نے اپنی دوسری ہی گیند پر بنگلہ دیش کے کھلاڑی تمیم اقبال کو بولڈ کر دیا۔

سعید اجمل کو میچ کا چھٹا اوور کرانے کو کہا گیا۔ ان کو پہلی ہی گیند پر چوکا پڑ گیا۔ اس کے بعد انھوں نے انعام الحق کو خود ہی کیچ لے کر آؤٹ کر دیا۔

سیعد اجمل کو کھیلنے میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو مشکل پیش آ رہی تھی۔ اس ہی اوور میں ایک گیند پر سٹمپ کی زبردست اپیل ہوئی لیکن وہ تھرڈ ایمپائر نے مسترد کر دی۔

اگلا اوور آفریدی کے حصے میں آیا اور انھوں نےبھی ایک وکٹ لے لی۔

اس سے الگے اوور میں بنگلہ دیشی کپتان مشفق الرحمان بھی آؤٹ ہو گئے۔ انھیں ذوالفقار بابر نے آؤٹ کیا۔

ذوالفقار بابر کی دو گیندوں پر شکیب الحسن نے لگاتار دو چھکے لگائے۔ اس اوور میں چودہ رن بنے۔

عمر گل نے پندرہ اوور کرایا۔ شکیب الحسن نے انھیں لگاتار دو گیندوں پر دو چوکے لگائے۔ اس کے بعد وہ ایک باونسر پر شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہو گئے۔

اس سے قبل ایک گیند پر شعیب ملک نے ان کا آسان کیچ چھوڑ دیا تھا۔

اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور سولہ اوور میں بنگلہ دیش صرف سو رن بنا سکا۔

سیعد اجمل نے اپنے تیسرے اوور میں ایک اور ناصر حسین کو سٹمپ کرا دیا۔ ناصر حسین تیز کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

عمر گل نے آخری اوور کرایا اور پہلی دو گیندوں پر انھیں لگاتار دو چوکے لگے۔

احمد شہزاد کی سنچری کے بارے میں ان کے ساتھی کھلاڑی شعیب ملک نے میچ کے بعد کہا کہ اس سنچری کی تعریف کرنے کے لیے لفظ کافی نہیں ہیں۔

احمد شہزاد ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے مختصر دورانیہ کے مقابلوں میں پاکستان کی طرف سے سنچری سکور کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

اس ٹورنامنٹ میں اس سے قبل گیلز سنچری سکور کر چکے ہیں۔

احمد شہزاد نے مجموعی طور پر ایک سو گیارہ رن بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے یعنی کرکٹ کی زبان میں ان کی اننگز ناقابلِ شکست رہی۔ انھوں نے ایک سو گیارہ رن صرف باسٹھ گیندوں پر سکور کیے۔ انھوں نے اپنی اننگز میں دس چوکے اور پانچ چھکے لگائے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اتوار کے روز بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان نے پاور پلے کے اختتام پر پچاس رن بنائے تھے اور اس کا ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا۔

پاکستان نے آٹھ اوور ختم ہونے پر پینسٹھ رن بنائے۔

پاکستان کا مجموعی سکور ستر پر پہنچا تو کپتان حفیظ، عبدالرزاق کی گیند پر سٹمپ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد اکہتر رن پر عمر اکمل کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہو گئے۔

تین ووکٹوں کے نقصان کے بعد شعیب ملک اور احمد شہزاد کے درمیان اچھی شراکت ہوئی اور سولہ اوور میں پاکستان کا سکور 146 رنز ہو گیا۔

احمد شہزاد نے اپنی سنچری مکمل کرنے کے بعد ایک چھکا لگایا۔ اس کے بعد ایک شاٹ پر وہ کیچ آؤٹ ہو گئے لیکن قسمت کی دیوی ان کے ساتھ تھی اور یہ گیند نو بال قرار پائی۔ ان کی وکٹ بھی بچ گئی اور پاکستان کو فری ہٹ بھی ملی۔ اس ہٹ کا شاہد آفریدی نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور گیند باونڈری کے پار نظر آئی۔

مرتضی کے اس اوور میں چوبیس سے زیادہ رن پڑے۔

بیسویں اوور کی پہلی گیند پر آفریدی نے چوکا لگایا۔ اس کی اگلی گیند پر اوور تھرو ہوئی اور یوں آفریدی نے دو رن بنا لیے۔

اوور کی تیسری گیند پر بھی دو رن بنے۔ چوتھی گیند پر آفریدی کیچ آؤٹ ہو گئے۔ آفریدی نو گیندوں پر بائیس رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اس کی اگلی پر شاہد آفریدی نے مرتضی کو دوسرا چوکا لگایا۔ یہ کیچ باونڈری پر پکڑا گیا تھا لیکن فیلڈر اس کیچ کو لینے کی کوشش میں گیند کے ساتھ باونڈری کے باہر جا گرے۔

پاکستان نے ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے۔ بلاول بھٹّی کی جگہ سہیل تنویر کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد شہزاد ٹی ٹوئنٹی میں شنچری بنانے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہوں گے۔

پاکستان واحد ٹیم ہے جو ابھی تک ہر بار ٹی ٹوئنٹی کے عالمی مقابلوں میں سیمی فائنل میں پہنچی ہے۔

پاکستان نے بھارت کے خلاف مایوس کن کاردگی کا مظاہرہ کیا تھا تاہم اس نے آسٹریلیا کے خلاف عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹورنامنٹ میں اپنی امیدیں برقرار رکھیں تھیں۔ پاکستان کو اپنی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے باقی دونوں میچز میں کامیابی حاصل کرنی ہوگي۔

دوسری جانب بنگلہ دیشی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے وہ ویسٹ انڈیز اور بھارت سے میچز ہار کر ٹورنا منٹ سے تقریباً باہر ہو چکی ہے۔

پاکستانی ٹیم اس وقت ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں اسے سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز دونوں کو شکست دینی ضروری ہے۔ اگر پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف شکست ہوتی ہے اور پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیاب ہوتا ہے تو ویسٹ انڈیزاور پاکستان دونوں چار چار پوائنٹس پر ہوں گے اور ان کے درمیان پرتری کا فیصلہ رن ریٹ پر ہوگا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کا میچ منگل کو ہوگا۔ ویسٹ انڈیز نے تین میچوں میں سے دو جیت کر سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات روشن رکھے ہیں اور اگر وہ منگل کے روز پاکستان کو ہرا دیتی ہے تو وہ چھ پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔

گروپ ٹو سے بھارتی ٹیم تین میچ جیت کر چھ پوائنٹس کے ساتھ پہلے ہی سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہے۔

آسٹریلوی ٹیم کا دو میچوں میں کوئی پوائنٹ نہیں ہے اگر وہ بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف اپنے اگلے دونوں میچ جیت لیتی ہے تو اس کے سیمی فائنل تک پہنچنے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان ویسٹ انڈیز کو ہرائے لیکن بنگلہ دیش سے ہارے تو اس صورت میں ویسٹ انڈیز پاکستان اور آسٹریلیا کے چار چار پوائنٹس ہونگے اور پھر سیمی فائنل کی ٹیم کا فیصلہ رن ریٹ پر ہوگا۔

اسی بارے میں