ویسٹ انڈیز کے ’کتنے آدمی تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پاکستانی ٹیم کی ہزیمت دیکھ کر مجھے بھارتی فلم ’ شعلے‘ یاد آگئی جس میں گبرسنگھ اپنے ساتھیوں سے پوچھتا ہے’ کتنے آدمی تھے ؟‘

شیربنگلہ سٹیڈیم میں بھی دو ہی آدمی تھے جنہوں نے پاکستانی ٹیم کے پیروں سے زمین سرکا دی۔

براوو اور ڈیرن سیمی نے یہ بات اچھی طرح سب کے ذہن میں بٹھادی کہ صورتحال کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو اگر دل ودماغ سے کھیلا جائے تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔

شاید پاکستانی ٹیم اس میچ میں ہی یہ سبق سیکھ لیتی تو اس کی ایسی درگت نہ بنتی۔

پاکستانی بولرز نے لٹیا ڈبودی تھی لیکن بیٹسمین چاہتے تو حواس پر قابو رکھتے ہوئے ایک بڑے سکور کا جرات مندی اور باوقار انداز میں تعاقب کرسکتے تھے لیکن ایسا دکھائی دیا کہ انہوں نے ویسٹ انڈیز کی اننگز کے آخری پانچ اوورز میں ہی حوصلے ہار دیے تھے اور جب حوصلے ہاردیے جائیں تو پھر اگلا قدم ہتھیار ڈال دینا ہوتا ہے جو شیربنگلہ سٹیڈیم میں سب نے دیکھ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption کامران اکمل اور شعیب ملک خراب فارم کے باوجود ٹیم میں تھے

پاکستانی ٹی ٹوئنٹی کپتان محمد حفیظ ہزیمت کے بعد میڈیا کے سامنے اپنا اور اپنے کھلاڑیوں کا دفاع کرنے کی پوری تیاری کرکے آئے تھے جس کا اظہار انہوں نے کپتانی نہ چھوڑنے اور شکست کی ذمہ داری تنہا قبول کرنے سے انکار کی صورت میں کردیا۔

محمد حفیظ نے یہ بھی واضح کردیا کہ ٹیم سلیکٹرز نے منتخب کی تھی اور مستقبل میں بھی اگر کوئی ردوبدل ہوا تو وہ سلیکشن کمیٹی کرے گی لیکن انہوں نے اس بات کا کوئی بھی ذکر نہیں کیا کہ سلیکشن کسی بھی کھلاڑی کا ہو اس میں کپتان کی مرضی اور خواہش ضرور شامل ہوتی ہے۔

موجودہ ٹیم میں بھی کامران اکمل اور شعیب ملک دو ایسے کھلاڑی ہیں جن کی سلیکشن میں کپتان کی مثبت رائے اور خواہش کا عمل دخل نمایاں تھا جنہیں ان کے سابقہ تجربے کو جواز بنا کر لیکن موجودہ خراب فارم کے باوجود ٹیم میں شامل کیا گیا۔دونوں کی ’لاجواب‛ کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔

کامران اکمل نے ڈومیسٹک سیزن کے دو ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس میں انتہائی مایوس کن بیٹنگ کا مظاہرہ کیا تھا اس کے باوجود انہیں اوپنر کی حیثیت سے ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن اب محمد حفیظ ان کی بیٹنگ پر پردہ ڈال کر وکٹ کیپنگ کے گن گارہے ہیں حالانکہ ان کی اہم ذمہ داری بیٹنگ تھی جس کے لیے وہ ٹیم میں لیے گئے تھے۔

شعیب ملک کے بارے میں مجھے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیرمین اعجازبٹ کا وہ جملہ یاد آگیا کہ شعیب ملک نے انٹیگریٹی کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران ٹیم میں واپسی یقینی بنانے کے لیے کیا کچھ اثرورسوخ استعمال نہیں کیا۔

سلیکٹرز اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب یہ بات مان لینی چاہیے کہ شعیب ملک اپنے عروج کی کرکٹ دیکھ چکے اور اب وہ کسی نہ کسی کی آنکھ کا تارہ بن کر ہی ٹیم میں آجاتے ہیں، لہذا کرکٹ بورڈ ٹیلنٹ کے بلند بانگ دعوے کرنا بند کردے یا پھر کامران اکمل اور شعیب ملک جنہیں متواتر مواقع دینے کا ریکارڈ قائم کیا جاچکا ہے ان کے مستقبل کا فیصلہ ایک بار کردے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد حفیظ اپنا اور کھلاڑیوں کا دفاع کرنے کی پوری تیاری کرکے آئے تھے

پاکستانی کرکٹ کی بدقسمتی کہ ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی ابتری اور انٹرنیشنل کرکٹ میں اے ٹیم کے دورے نہ ہونے کے سبب ٹیلنٹ کا پتہ ہی نہیں چل پا رہا ہے اس کی دو بڑی مثالیں شرجیل خان اور صہیب مقصود ہیں جنہوں نے یقیناً ڈومیسٹک کرکٹ میں کافی رنز کیے ہیں لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کی ناتجربہ کاری ان کی کرکٹ میں واضح دکھائی دی۔

صہیب مقصود کے بارے میں بہت جلد رائے قائم کرلی گئی کہ وہ دوسرے انضمام ہیں لیکن صرف ملتان میں پیدا ہوجانے سے اور وہاں کرکٹ کھیل لینے سے انضمام الحق نہیں بنا جاسکتا۔

پاکستانی کرکٹرز کا سب سے بڑا مسئلہ مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔ وہ ایک بڑی اننگز کے بعد خود کو برائن لارا اور سچن تندولکر سمجھنے لگتے ہیں اور میڈیا کی تنقید ان کی طبعیت پر گراں گزرتی ہے لیکن عمراکمل، احمد شہزاد اور محمد حفیظ کو یہ سمجھ لیناچاہیے کہ وہ اچھے بیٹسمین ضرور ہیں لیکن اس مقام پر ابھی نہیں پہنچے ہیں کہ دنیا انہیں ورلڈ کلاس کرکٹرز کہہ سکے۔

اسی بارے میں