جے وردھنے اور سنگاکارا کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو الوداع

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے عصر حاضر کے دو ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں

سری لنکن کرکٹ ٹیم میں بیٹنگ لائن کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے اب بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نظرنہیں آئیں گے۔

دونوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد وہ اس طرز کرکٹ کے بین الاقوامی میچوں میں حصہ نہیں لیں گے اور اس سے زیادہ شاندار انداز میں الوداع کہنے کا موقع اور کیا ہوسکتا ہے کہ ان کی ٹیم ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی فاتح بن گئی۔

اس جیت نے وہ کسک بھی دور کر دی جو ان دونوں کے دلوں میں چار عالمی مقابلوں کے فائنل کھیل کر اور ایک بھی نہ جیت کر موجود تھی۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آخری تین میچوں میں سری لنکا کی قیادت کرنے والے فاسٹ بولر لستھ ملنگا کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم سنگاکارا اور جے وردھنے کو جیت کےساتھ اس فارمیٹ میں الوداع کہنے کے لیے بے تاب تھی اور انھیں خوشی ہے کہ سب کچھ وہی ہوا جس کی خواہش سب کے دلوں میں تھی۔

کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے عصرِ حاضر کے دو ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں، لیکن جتنے بڑے بیٹسمین ہیں اتنے ہی بڑے انسان بھی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب سنگاکارا سے اس جیت پر ان کے تاثرات معلوم کیے گئے تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ وہ اپنے احساسات کو بیان کر سکیں، لیکن انھیں عجز و انکساری کے ساتھ اس جیت کو دیکھنا ہوگا کیونکہ یہ کسی فرد واحد کی جیت نہیں ہے بلکہ پوری ٹیم اور کوچنگ اسٹاف کا عمل دخل اس میں شامل ہے۔

سنگاکارا سری لنکن ٹیم کے ساتھ تین ماہ سے بنگلہ دیش میں تھے۔ بنگلہ دیش کے خلاف چٹاگانگ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انہوں نے ٹرپل سنچری اور دوسری اننگز میں سنچری بنائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جے وردھنے نے اپنی آخری اننگز میں اگرچہ صرف 24 رنز بنائے لیکن عالمی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 1000 رنز مکمل کرنے والے پہلے بیٹسمین ضرور بن گئے

ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں بھی انھوں نے سنچری اسکور کی اور پھر ایشیا کپ میں بھی انھیں کوئی روکنے والا نہ تھا جس میں انھوں نے بھارت کے خلاف سنچری اور پاکستان اور افغانستان کے خلاف نصف سنچریاں بنائیں۔

اگرچہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ان کے بلے سے رنز نکلنے رک گئے تھے تاہم کپتان ملنگا کا کہنا ہے کہ سب کو معلوم تھا کہ یہ صرف ایک اننگز کا معاملہ ہے جو سنگاکارا نے کھیل لی تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

بڑا بیٹسمین وہی ہے جو بڑے میچ میں اپنی موجودگی کا احساس دلائے اور سنگاکارا نے فائنل میں ایک ایسے مرحلے پر ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کر دیا جب حالات ڈانواں ڈول ہوتے نظر آرہے تھے اور بھارتی ٹیم کم اسکور کر کے بھی آسانی سے ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔

مہیلا جے وردھنے کا کہنا ہے کہ یہ فائنل کوئی عام میچ نہ تھا چونکہ یہ ان کا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تھا لہٰذا ان پر بھی جذبات غالب تھے۔

جے وردھنے نے اپنی آخری اننگز میں اگرچہ صرف 24 رنز بنائے لیکن عالمی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے والے پہلے بیٹسمین ضرور بن گئے۔

سری لنکن کپتان ملنگا کو ایک اطمینان ضرور ہے کہ اگرچہ جے وردھنے اور سنگاکارا ٹی ٹوئنٹی سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن ان کے ٹیسٹ اور ون ڈے کھیلتے رہنے سے نوجوان کرکٹروں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

اسی بارے میں